نئی دہلی: بھارت میں سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں وزیرِاعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی کو شدید تنقید کا سامنا ہے، جہاں بعض صارفین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ اقدامات کے باعث ایران اور بھارت کے تعلقات متاثر ہوئے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر زیرِ گردش بیانات میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکہ کی پالیسیوں کے تناظر میں بھارت کے فیصلوں نے خطے میں اس کے تعلقات کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ کچھ صارفین کے مطابق ان اقدامات سے بھارت کو کوئی خاص فائدہ حاصل نہیں ہوا بلکہ اسے سفارتی سطح پر مشکلات اور تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
صارفین نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ امریکہ نے اپنے مفادات کے لیے بھارت کو استعمال کیا، جس کے نتیجے میں ایران کے ساتھ تعلقات میں دوری پیدا ہوئی۔ مزید برآں، بعض صارفین نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بیان/ٹوئٹ، جسے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے شیئر کیا تھا، پر ردعمل دیتے ہوئے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے بھارتی خارجہ پالیسی کی ناکامی قرار دیا۔
کچھ تبصروں میں یہ بھی کہا گیا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان خطے میں سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے مختلف ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ بھارت کو سفارتی سطح پر چیلنجز کا سامنا ہے۔
تاہم، سرکاری سطح پر ان دعوؤں کی نہ تو تصدیق سامنے آئی ہے اور نہ ہی تردید، جبکہ ماہرین کے مطابق خطے کی صورتحال نہایت پیچیدہ ہے اور اس میں کئی عوامل شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کو اپنی خارجہ پالیسی میں توازن برقرار رکھنے اور علاقائی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے محتاط حکمت عملی اپنانا ہوگی۔