امریکہ میں ٹائٹل 42 خاتمے کے بعد امریکہ میں امیگریشن کا پورا ٹائٹل آٹھ کے تحت نظام دوبارہ عام قانون کے
تحت آ گیا ہے، جس کے نتیجے میں سرحدی پالیسیوں میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ پہلے ٹائٹل 42 کے تحت سرحد پر آنے والے زیادہ تر افراد خاص طور پر United States–Mexico border سے داخل ہونے والےکو فوراً بغیر کسی مکمل قانونی کارروائی کے واپس بھیج دیا جاتا تھا، جس کی وجہ سے لاکھوں مہاجرین کو پناہ (asylum) کے حق سے محروم رکھا گیا۔ اب اس کے خاتمے کے بعد امریکہ میں داخل ہونے والے افراد کو کم از کم ابتدائی قانونی عمل (screening/interview) کا موقع ملتا ہے، تاہم اس کے ساتھ سختی بھی بڑھ گئی ہے، جیسے کہ اگر کوئی شخص غیر قانونی طریقے سے داخل ہوتا ہے اور asylum کے لیے درست راستہ اختیار نہیں کرتا تو اسے جلد ڈیپورٹ کیا جا سکتا ہے اور مستقبل میں داخلے پر پابندی بھی لگ سکتی ہے۔ اس تبدیلی کے بعد سرحدی علاقوں میں عارضی طور پر مہاجرین کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا، جس سے امیگریشن عدالتوں، بارڈر حکام اور پناہ گزین مراکز پر دباؤ بڑھا۔
زیادہ تر مہاجرین اب بھی لاطینی امریکہ کے ممالک سے آتے ہیں، جن میں خاص طور پر Mexico, Guatemala, Honduras, El Salvador کے علاوہ حالیہ برسوں میں Venezuela, Cuba اور Nicaragua کے شہری بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں، جو معاشی بدحالی، سیاسی عدم استحکام اور سیکیورٹی مسائل کے باعث امریکہ کا رخ کرتے ہیں۔ ٹائٹل 42 کے دوران جو لوگ امریکہ میں داخل نہ ہو سکے یا بار بار واپس بھیجے گئے تھے، ان میں سے بہت سے اب دوبارہ کوشش کر رہے ہیں، جبکہ جو پہلے ہی امریکہ میں موجود ہیں ان کے کیسز اب امیگریشن عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، جہاں فیصلہ ہونے میں مہینوں بلکہ سال بھی لگ سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر Title 42 کے خاتمے سے ایک طرف قانونی راستہ بحال ہوا ہے، لیکن دوسری طرف امیگریشن سسٹم پر بوجھ اور پالیسی کی سختی دونوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔