فرانس میں بکریوں اور بھیڑوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے سلسلے میں افغان نوجوان گرفتا
گلف اِن سائیڈر کے مطابق، ایک 19 سالہ افغان شہری کو فرانس کے شہر مارسی کے قریب بوچز-دو-رون کے علاقے پینے-میرابو میں بکریوں اور بھیڑوں کے ساتھ مبینہ طور پر متعدد وحشیانہ جنسی حملوں کے الزام میں گرفتار کر کے اس پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔
ملزم کو 9 اور 10 اپریل 2026 کی درمیانی شب اینٹی کرائم بریگیڈ (BAC) نے اُس وقت حراست میں لیا جب مقامی بکریوں اور بھیڑوں کے مالکان نے پولیس کو اطلاع دی۔
2026 کے آغاز سے ہی کئی مالکان نے اپنے جانوروں کو زخمی حالت میں پایا تھا، اور ایسے واقعات فروری اور مارچ میں بھی رپورٹ ہوئے تھے۔
فرانسیسی اخبار کے مطابق جانوروں کی ٹانگیں بندھی ہوئی تھیں اور ان پر جنسی زیادتی کے واضح آثار موجود تھے۔
متعدد ایسے واقعات کے بعد مالکان نے مجرم کی شناخت کے لیے اپنی املاک پر موشن سینسر کیمرے نصب کیے۔
فوٹیج میں ایک نوجوان شخص کا سایہ نظر آیا جو رات کے وقت مویشیوں کے پاس آتا تھا۔ یہ تصاویر پولیس کے حوالے کی گئیں، جس کے بعد ملزم کی شناخت ممکن ہو سکی۔
یہ شخص قریبی قصبے انہوفن میں ایک مہاجر پناہ گاہ سے تعلق رکھتا ہے اور اسے نگرانی کی ویڈیو میں دیکھے جانے کے بعد گرفتار کیا گیا۔
ایک اور واقعے میں یہ شخص شام 6 بج کر 45 منٹ پر گھوڑوں کے فارم میں داخل ہوا جب خاندان رات کا کھانا کھا رہا تھا۔ کتے کے بھونکنے کی آواز سن کر انہوں نے نگرانی کے کیمرے چیک کیے، جہاں وہ شخص ایک جانور کے اوپر نامناسب حالت میں نظر آیا۔
خاندان کے ایک فرد نے اسے پکڑنے کی کوشش کی مگر وہ فرار ہو گیا، تاہم بعد میں تعاقب کر کے اسے پکڑ لیا گیا اور پولیس کے حوالے کر دیا گیا، جس نے اسے گرفتار کر لیا۔
مزید یہ کہ 2023 میں بھی ایک 27 سالہ شخص کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ ہیمبرگ کے قریب ایک اصطبل میں ایک ٹٹو کے ساتھ جنسی زیادتی کرتے ہوئے کیمرے میں قید ہو گیا تھا۔ اس ٹٹو کا نام “کیری” تھا اور واقعہ رات ایک بجے پیش آیا تھا۔
اسی طرح 2017 میں برلن کے ایک پارک کے پالتو جانوروں کے حصے میں بھی ایک واقعہ پیش آیا جہاں ایک شخص نے بچوں کے سامنے ایک ٹٹو کے ساتھ زیادتی کی تھی۔