پاکستان کے سابق وزیرِاعظم عمران خان کی گرفتاری اور جیل میں مبینہ حالات کو UN Human Rights Council میں جنیوا کے اجلاس کے دوران عالمی سطح پر اٹھایا گیا، جہاں ان کے صاحبزادے قاسم خان نے زلفی بخاری کے ہمراہ خطاب کرتے ہوئے ایک باضابطہ درخواست جمع کرائی جس میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں غیر قانونی حراست، طویل تنہائی، مناسب طبی سہولیات کی کمی، اہل خانہ سے ملاقات میں رکاوٹیں اور سیاسی انتقام جیسے الزامات شامل ہیں، جبکہ عالمی اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں، پاکستان کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کا جائزہ لیں اور سیاسی قیدیوں کے ساتھ سلوک کی نگرانی کریں، اس دوران پاکستان کے یورپی یونین کے ساتھ GSP+ اسٹیٹس کو بھی بالواسطہ طور پر انسانی حقوق سے جوڑا گیا، جبکہ زلفی بخاری نے مقدمات کو سیاسی قرار دیتے ہوئے آزادانہ تحقیقات اور عالمی مداخلت کا مطالبہ کیا، تاہم ماہرین کے مطابق یہ کوئی باضابطہ اقوام متحدہ کی قرارداد نہیں بلکہ ایک خطاب، درخواست اور سفارتی کوشش تھی جس کا فوری قانونی اثر نہیں ہوتا مگر اس سے بین الاقوامی دباؤ بڑھ سکتا ہے، اور اس پیشرفت پر پاکستان میں مختلف ردعمل سامنے آیا جہاں حکومتی حلقوں نے اسے ملک کے خلاف عالمی لابنگ قرار دیتے ہوئے ممکنہ معاشی نقصان اور GSP+ اسٹیٹس پر اثرات کا خدشہ ظاہر کیا جبکہ اپوزیشن نے اسے انسانی حقوق کے لیے جائز اقدام قرار دیا، یوں یہ معاملہ پاکستان کی داخلی سیاست کو عالمی سطح پر لے آیا ہے اور اس کے سفارتی و معاشی اثرات پر بحث جاری ہے۔