مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کوئی نیا مسئلہ نہیں بلکہ اس کی جڑیں 1979 کے Iranian Revolution کے بعد سے مضبوط ہوئیں، جب ایران نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے ایک مخالف ریاست قرار دیا، جبکہ اسرائیل ایران کو اپنی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ سمجھتا ہے؛ اس تنازع کی بنیادی وجوہات میں ایران کا جوہری پروگرام شامل ہے جس پر اسرائیل کو خدشات ہیں، خطے میں اثر و رسوخ کی جنگ جہاں ایران مختلف اتحادی گروپس کے ذریعے اپنی پوزیشن مضبوط کر رہا ہے، اور نظریاتی اختلافات خاص طور پر فلسطین کے معاملے پر دونوں ممالک کے متضاد مؤقف؛ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست بڑی جنگ نہیں ہوئی تاہم شام، لبنان اور دیگر علاقوں میں پراکسی جنگ، خفیہ کارروائیاں اور سائبر حملے اس کشیدگی کو بڑھاتے رہے ہیں، جبکہ حالیہ برسوں میں اسرائیلی حملوں اور ایرانی ردعمل کے باعث تناؤ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم دونوں ممالک کسی بڑی جنگ سے گریز کرتے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ اس کے اثرات پورے خطے اور عالمی سطح پر مرتب ہو سکتے ہیں، ماہرین کے مطابق یہ تنازع صرف دو ممالک تک محدود نہیں بلکہ عالمی طاقتوں اور خطے کی مجموعی سیاست سے جڑا ہوا ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس میں ہر پیش رفت کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایران اسرائیل کشیدگی میں امریکہ کا کردار اور حالیہ صورتحال پر نظر رکھنا بہت اہم ہے ایران اور اسرائیل کے تنازع میں امریکہ ایک اہم فریق کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو طویل عرصے سے اسرائیل کا قریبی اتحادی ہے اور اسے دفاعی، سفارتی اور عسکری حمایت فراہم کرتا رہا ہے، جبکہ ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں اور دباؤ کی پالیسی بھی اختیار کیے ہوئے ہے؛ خطے میں امریکہ کا بنیادی مقصد اپنے اتحادیوں کا تحفظ اور طاقت کا توازن برقرار رکھنا ہے۔ جہاں تک حالیہ کشیدگی یا محدود نوعیت کی جھڑپوں کا تعلق ہے، اسے باقاعدہ مکمل جنگ قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ زیادہ تر پراکسی کارروائیوں، محدود حملوں اور جوابی اقدامات پر مشتمل رہی ہے۔ اس صورتحال میں کسی ایک فریق کی واضح “فتح” یا “شکست” کا تعین کرنا مشکل ہے، کیونکہ ہر جانب سے اپنے اپنے بیانیے پیش کیے جا رہے ہیں؛ ایران اپنی مزاحمت کو کامیابی قرار دیتا ہے جبکہ امریکہ اور اسرائیل اپنی حکمت عملی کو مؤثر بتاتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس کشیدگی میں اصل نقصان خطے کے امن اور استحکام کو ہوا ہے، جبکہ کوئی بھی فریق مکمل طور پر غالب نہیں آیا، اور صورتحال بدستور نازک اور پیچیدہ ہے۔

By Syed Inam Ali Kazmi

میرا نام سید انعام علی کاظمی صحافتی میدان میں 2003 سے منسلک ہوں میں نے مختلف اخبارات کے ساتھ کام کیا اور گزشتہ 17-18 سال سے پاکستان کے ایک بڑے سرکاری ٹی وی چینل سے منسلک ہوں میرےتجربے میں مختلف موضوعات پر نیوز رپورٹنگ، بے شمار رپورٹس کی تیاری، اور پاکستان کی معروف سیاسی شخصیات کے انٹرویوز شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، میں روزانہ کی بنیاد پر مختلف موضوعات پر عوامی رائے اور معاشرتی مسائل پر ولاگ بناتا ہوں اور اپنا یوٹیوب چینل "انعام کاظمی ولاگ" اور ایک ٹک ٹاک اکاونٹ بھی ہے جہاں میں دلچسپ مواد شیئر کرتا ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *