کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان (سی پی پی) نے ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے ایران اور امریکہ کے مذاکرات مستقل جنگ بندی کے حوالے سے کامیاب ثابت ہوں گے۔
سی پی پی کے چیئرمین انجینئر جمیل احمد ملک اور جنرل سیکرٹری کامریڈ معراج گل خٹک نے مشترکہ بیان میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی کی تجویز کو مان کر حقیقی دانشمندی کا مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ بخوبی جانتے ہیں کہ شہباز شریف اس ملک کے وزیراعظم ہیں جو تمام اسلامی ممالک میں واحد اور اکلوتا جوہری ملک ہے۔ اگر ٹرمپ نے وزیراعظم پاکستان کی اس تجویز کو تسلیم نہ کیا ہوتا تو اس کے نتیجے میں امریکہ کو اس خطے میں ایران کے ہاتھوں یقینی شکست کا سامنا کرنا پڑتا۔
پاکستانی حکومت اور فوج کی سفارتی کامیابیبیان میں مزید کہا گیا کہ موجودہ حکومت (جس کی قیادت وزیراعظم شہباز شریف کر رہے ہیں) اور پاکستانی فوج (جو فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تابع ہے) نے امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے دوران انتہائی موثر سفارت کاری کی۔ اس سفارتی کاوش کا اعتراف خود ایران اور ایرانی عوام نے کیا ہے۔ تہران میں منعقدہ ایک عوامی ریلی کے دوران شرکاء نے “پاکستان زندہ باد، ایران پاک دوستی زندہ باد” کے نعرے لگا کر پاکستان کے کردار کو سراہا۔
سی پی پی کے مطابق اس جنگ میں پاکستان کی بہترین سفارت کاری کو تسلیم کرنا اور اس کی تعریف کرنا قومی مفاد میں ہے، اور کمیونسٹ پارٹی کھلے دل سے اس کا اعتراف کرتی ہے۔
کمیونسٹ پارٹی نے ایرانی قوم کی جنگ کے دوران یکجہتی، اتحاد اور دلیری کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ جس طرح ایرانی قوم نے متحد ہو کر امریکہ اور اسرائیل کی طاقت کا بے خوف مقابلہ کیا، اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ یہ جنگ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے دانستہ طور پر مسلط کی گئی تھی، لیکن ایرانی عوام نے دنیا کی نام نہاد سپر پاور اور اس کے اتحادی کے خلاف تاریخی مثال قائم کی۔
انھوں نے کہا کہ آنے والی نسلیں اس جنگ کو ایران اور ایرانی عوام کی یکجہتی اور اتحاد کی روشن مثال کے طور پر ہمیشہ یاد رکھیں گی۔