پیرس:
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کی چیئرپرسن Hina Rabbani Khar نے پیرس میں فرانسیسی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین Bruno Fuchs سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں علاقائی صورتحال، عالمی سیاسی و سفارتی پیش رفت، اور پاکستان و فرانس کے درمیان دوطرفہ تعاون اور پارلیمانی روابط کو مزید فروغ دینے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے جنوبی ایشیا اور یورپ میں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال، عالمی امن و سلامتی، اور بین الاقوامی چیلنجز پر اپنے خیالات کا تبادلہ کیا۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ موجودہ عالمی حالات میں باہمی مشاورت اور تعاون کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

دونوں فریقین نے کثیرالجہتی نظام (Multilateralism) سے اپنی مشترکہ وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا کہ اقوامِ عالم کے مشترکہ مسائل کا حل یکطرفہ نہیں بلکہ اجتماعی حکمتِ عملی کے ذریعے ممکن ہے۔ ملاقات میں پارلیمانی سفارتکاری کے کردار کو سراہا گیا اور اس بات پر اتفاق ہوا کہ پاکستان اور فرانس کے درمیان پارلیمانی سطح پر روابط کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔
ہنا ربانی کھر نے اس موقع پر پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی امن، علاقائی استحکام اور تعمیری سفارتکاری کا حامی ہے، جبکہ فرانسیسی ہم منصب برونو فُکس نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید وسعت دینے میں فرانسیسی پارلیمنٹ کی دلچسپی کا اظہار کیا۔
پاکستان کو اس ملاقات سے کیا فائدہ ہوگا؟
سیاسی و سفارتی ماہرین کے مطابق اس اعلیٰ سطحی پارلیمانی ملاقات سے پاکستان کو متعدد اہم فوائد حاصل ہو سکتے ہیں:
یورپی سطح پر پاکستان کا مؤقف مضبوط ہوگا
فرانس یورپی یونین کا ایک بااثر ملک ہے، اس نوعیت کے روابط سے پاکستان کا مؤقف یورپی فورمز پر مؤثر انداز میں اجاگر ہو سکتا ہے۔
پارلیمانی سفارتکاری کو فروغ
حکومتوں کے ساتھ ساتھ پارلیمان کے ذریعے سفارتکاری سے پاکستان کے عالمی تعلقات زیادہ پائیدار اور متوازن ہوں گے۔
تجارتی اور سرمایہ کاری مواقع
فرانس کے ساتھ بہتر تعلقات مستقبل میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
عالمی فورمز پر تعاون
اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں میں پاکستان اور فرانس کے درمیان ہم آہنگی بڑھنے کا امکان ہے۔
پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر
ایسی ملاقاتیں پاکستان کو ایک ذمہ دار، امن پسند اور عالمی معاملات میں سنجیدہ ریاست کے طور پر پیش کرتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ملاقات پاکستان کی پارلیمانی اور سفارتی کوششوں کا تسلسل ہے، جو یورپ کے اہم ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو مؤثر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔