پاکستان میں صحافت ہمیشہ سے ایک بااثر مگر کٹھن پیشہ رہا ہے۔ یہ محض خبر رسانی کا ذریعہ نہیں بلکہ ریاست، عوام اور اقتدار کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ پل کمزور بھی ہوا ہے اور اس پر چلنے والوں کے لیے خطرات بھی بڑھتے گئے ہیں۔ آج کا صحافی صرف خبر نہیں دیتا بلکہ وہ دباؤ، دھمکیوں، معاشی مشکلات اور بعض اوقات اپنی جان کے خطرے کے درمیان سچ کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔

اگر ہم پاکستان میں صحافت کے معیار کا جائزہ لیں تو ایک ملی جلی تصویر سامنے آتی ہے۔ ایک طرف ایسے صحافی موجود ہیں جو تحقیقاتی رپورٹنگ کے ذریعے بڑے بڑے اسکینڈلز بے نقاب کرتے ہیں، عوامی مسائل کو اجاگر کرتے ہیں اور طاقتور حلقوں سے سوال پوچھنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ دوسری طرف میڈیا کے کچھ حصوں میں سنسنی خیزی، غیر مصدقہ خبروں کی دوڑ اور ریٹنگ کی جنگ نے معیار کو متاثر کیا ہے۔ سوشل میڈیا کے پھیلاؤ نے ہر فرد کو “رپورٹر” بنا دیا ہے، جس سے اصل صحافت اور غیر ذمہ دارانہ مواد کے درمیان فرق دھندلا ہوتا جا رہا ہے۔

صحافیوں کو درپیش مسائل کی فہرست طویل اور تشویشناک ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ سیکیورٹی کا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں صحافیوں کے لیے کام کرنا خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ مختلف ادوار میں دہشتگرد تنظیموں، جرائم پیشہ گروہوں اور بعض بااثر عناصر کی جانب سے صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ دھمکیاں، اغوا، تشدد اور قتل جیسے واقعات اس پیشے کو غیر محفوظ بنا دیتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ قانونی دباؤ بھی ایک حقیقت ہے۔ سائبر کرائم قوانین اور دیگر ضوابط کو بعض اوقات آزادی اظہار کو محدود کرنے کے لیے استعمال کیے جانے کا تاثر پایا جاتا ہے۔ صحافیوں پر مقدمات درج ہونا، گرفتاری کا خوف اور ادارہ جاتی دباؤ ایک ایسا ماحول پیدا کرتا ہے جہاں خود سنسرشپ عام ہو جاتی ہے۔ بہت سے صحافی حساس موضوعات پر لکھنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ انہیں اپنی اور اپنے خاندان کی سلامتی عزیز ہوتی ہے۔

معاشی مسائل بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ میڈیا ہاؤسز کی مالی مشکلات، تنخواہوں میں تاخیر، جبری برطرفیاں اور فیلڈ رپورٹرز کے لیے بنیادی سہولیات کا فقدان اس شعبے کو مزید کمزور کرتا ہے۔ خاص طور پر ضلعی اور تحصیل سطح پر کام کرنے والے صحافی انتہائی محدود وسائل میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں، مگر ان کے مسائل اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔

اگر ہم ان قربانیوں کی بات کریں جو پاکستانی صحافیوں نے دی ہیں تو تصویر اور بھی دردناک ہو جاتی ہے۔ سن 2000 سے اب تک ڈیڑھ سو سے زائد صحافی اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ان میں سے اکثریت کے قاتل آج تک قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔ چند ہی کیسز ایسے ہیں جن میں سزا ہوئی، جبکہ بیشتر واقعات “نامعلوم افراد” کے کھاتے میں ڈال دیے گئے۔ یہ صورتحال نہ صرف انصاف کے نظام پر سوال اٹھاتی ہے بلکہ دیگر صحافیوں کے لیے بھی خوف کا سبب بنتی ہے۔

حکومتی سطح پر اگرچہ صحافیوں کے تحفظ کے دعوے کیے جاتے ہیں اور کچھ قوانین بھی متعارف کروائے گئے ہیں، مگر عملی طور پر ان کا اثر محدود دکھائی دیتا ہے۔ صحافتی تنظیمیں مسلسل اس بات کی نشاندہی کرتی رہی ہیں کہ صحافیوں کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کو سزا نہ ملنا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ جب تک انصاف کا نظام مضبوط نہیں ہوگا، صحافیوں کے تحفظ کی کوئی بھی پالیسی مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان میں صحافت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف سچ بولنے کی روایت زندہ ہے اور دوسری طرف اس سچ کی قیمت بہت زیادہ ہو چکی ہے۔ یہ پیشہ آج بھی معاشرے کی آنکھ اور کان ہے، مگر اس آنکھ کو بند کرنے اور اس آواز کو دبانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست، میڈیا مالکان، صحافتی تنظیمیں اور خود صحافی مل کر اس شعبے کو مضبوط کریں۔ صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے، ان کے معاشی مسائل حل کیے جائیں اور سب سے بڑھ کر انصاف کے نظام کو فعال بنایا جائے تاکہ کسی بھی صحافی کے خون کو رائیگاں نہ جانے دیا جائے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان میں صحافت صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک جدوجہد ہے—ایسی جدوجہد جس میں قلم اٹھانے والا ہر شخص اپنے حصے کی سچائی لکھنے کے لیے تیار تو ہوتا ہے، مگر اسے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس سچ کی قیمت کبھی کبھی بہت بھاری پڑ سکتی ہے۔

By Syed Inam Ali Kazmi

میرا نام سید انعام علی کاظمی صحافتی میدان میں 2003 سے منسلک ہوں میں نے مختلف اخبارات کے ساتھ کام کیا اور گزشتہ 17-18 سال سے پاکستان کے ایک بڑے سرکاری ٹی وی چینل سے منسلک ہوں میرےتجربے میں مختلف موضوعات پر نیوز رپورٹنگ، بے شمار رپورٹس کی تیاری، اور پاکستان کی معروف سیاسی شخصیات کے انٹرویوز شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، میں روزانہ کی بنیاد پر مختلف موضوعات پر عوامی رائے اور معاشرتی مسائل پر ولاگ بناتا ہوں اور اپنا یوٹیوب چینل "انعام کاظمی ولاگ" اور ایک ٹک ٹاک اکاونٹ بھی ہے جہاں میں دلچسپ مواد شیئر کرتا ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *