اٹک میں ہنر مند کاریگر خالص اور اعلیٰ معیار کے چمڑے سے ہاتھ سے تیار کی جانے والی خوبصورت چپلیں بنا کر صدیوں پرانی دستکاری کی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ یہ چپلیں مکمل طور پر ہاتھ کی نفیس محنت سے تیار کی جاتی ہیں جن میں مضبوطی، پائیداری اور آرام کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ کاریگروں کے مطابق عمدہ کوالٹی کے چمڑے کے استعمال کی وجہ سے یہ چپلیں نہ صرف دیرپا ہوتی ہیں بلکہ گرمیوں کے موسم میں پہننے کے لیے بھی انتہائی آرام دہ سمجھی جاتی ہیں۔

اٹک میں تیار کی جانے والی چپلیں مختلف رنگوں اور دلکش ڈیزائنز میں دستیاب ہوتی ہیں جن میں خاص طور پر سیاہ، بھورا، گہرا بھورا، خاکی اور ہلکا سنہری رنگ زیادہ پسند کیے جاتے ہیں۔ ان کی ساخت بھی مختلف انداز میں بنائی جاتی ہے جن میں سادہ پٹی والی چپل، ڈبل پٹی ڈیزائن، کڑھائی یا نقش و نگار والی چپل اور روایتی پشتون انداز کی مضبوط چپل شامل ہیں۔ ان میں سے سادہ مگر مضبوط ڈیزائن والی چپل سب سے زیادہ مقبول سمجھی جاتی ہے کیونکہ یہ روزمرہ استعمال کے ساتھ ساتھ روایتی لباس کے ساتھ بھی خوب جچتی ہے۔

مقامی افراد کے علاوہ دیگر شہروں سے آنے والے خریدار بھی ان ہاتھ سے بنی چپلوں کو بڑی دلچسپی سے خریدتے ہیں۔ اکثر لوگ اپنی پسند اور پاؤں کے سائز کے مطابق خصوصی آرڈر دے کر بھی چپلیں تیار کرواتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اٹک کی یہ دستکاری اب صرف مقامی حد تک محدود نہیں رہی بلکہ ملک کے مختلف شہروں میں بھی اپنی پہچان بنا رہی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کی کئی معروف سیاسی اور سماجی شخصیات بھی روایتی چمڑے کی چپل پہننا پسند کرتی ہیں، جن میں سیاستدان، سماجی رہنما اور قبائلی عمائدین شامل ہیں۔ روایتی لباس کے ساتھ یہ چپلیں وقار اور سادگی کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔

دوسری جانب حکومت کی جانب سے چمڑے کی مصنوعات پر ٹیکس میں کمی کیے جانے سے اس شعبے سے وابستہ کاریگروں اور تاجروں کو بھی ریلیف ملا ہے۔ مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد کاروبار میں بہتری آئی ہے اور چمڑے کی مصنوعات کی تیاری اور فروخت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

کاریگروں کے مطابق چپل سازی کا یہ ہنر انہیں اپنے بزرگوں سے ورثے میں ملا ہے اور وہ آج بھی اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے پوری محنت اور لگن کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے اس روایتی صنعت کی مزید سرپرستی کریں تو نہ صرف مقامی دستکاری کو فروغ مل سکتا ہے بلکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

By Syed Inam Ali Kazmi

میرا نام سید انعام علی کاظمی صحافتی میدان میں 2003 سے منسلک ہوں میں نے مختلف اخبارات کے ساتھ کام کیا اور گزشتہ 17-18 سال سے پاکستان کے ایک بڑے سرکاری ٹی وی چینل سے منسلک ہوں میرےتجربے میں مختلف موضوعات پر نیوز رپورٹنگ، بے شمار رپورٹس کی تیاری، اور پاکستان کی معروف سیاسی شخصیات کے انٹرویوز شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، میں روزانہ کی بنیاد پر مختلف موضوعات پر عوامی رائے اور معاشرتی مسائل پر ولاگ بناتا ہوں اور اپنا یوٹیوب چینل "انعام کاظمی ولاگ" اور ایک ٹک ٹاک اکاونٹ بھی ہے جہاں میں دلچسپ مواد شیئر کرتا ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *