سیہون: حضرت لعل شہباز قلندرؒ کے 774ویں سالانہ عرس کی تقریبات کا باضابطہ آغاز، 30 لاکھ زائرین کی متوقع آمد
سیہون میں عظیم صوفی بزرگ حضرت لعل شہباز قلندر کے 774ویں سالانہ عرس مبارک کی تقریبات کا باضابطہ افتتاح صوبائی وزیر اوقاف سید ریاض حسین شاہ شیرازی نے مزار پر چادر چڑھا کر اور دعا کر کے کیا۔
اس موقع پر ڈویژنل کمشنر فیاض حسین عباسی، ڈی آئی جی طارق رزاق دھاریجو، ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری، چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف مختیار علی ابڑو، ایس ایس پی جامشورو محمد ظفر چھانگا، چیئرمین سیہون میونسپل کمیٹی سید شہزاد حیدر شاہ سمیت دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ صوفیوں اور اولیاء کی سرزمین ہے جنہوں نے ہمیشہ امن، محبت اور بھائی چارے کا درس دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں دہشت گردی، عدم برداشت، انتہاپسندی اور معاشرے میں پھیلتے منفی رجحانات کے خاتمے کے لیے صوفیاء کے پیغام کو عام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
صوبائی وزیر نے بتایا کہ حضرت لعل شہباز قلندرؒ کا عرس ملک کا سب سے بڑا عرس ہے، جس میں رواں سال تقریباً 30 لاکھ زائرین کی آمد متوقع ہے، جبکہ گزشتہ برس 28 لاکھ زائرین نے عرس میں شرکت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ زائرین کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیہون میں ترقیاتی کام مسلسل جاری ہیں اور آئندہ سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) میں مزید منصوبے شامل کیے جائیں گے۔ صوبائی وزیر نے اسلام آباد میں ہونے والے بم دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ پاک فوج اور حکومت پاکستان دہشت گردی کے خلاف بھرپور کارروائیاں کر رہی ہیں اور ان شاء اللہ ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری کی جانب سے صوبائی وزیر کو شہباز میموریل شیلڈ پیش کی گئی، جبکہ صوبائی وزیر نے درگاہ کے احاطے میں مستحق خواتین میں کپڑے اور تحائف بھی تقسیم کیے۔
دوسری جانب، عرس کے پہلے دن سندھ کلچر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے پبلک لائبریری میں سندھ کی روایتی سگھڑ کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کچہری میں سندھ کے نامور سگھڑوں خلیل مہیسر، عاجز رحمت اللہ، ممتاز عباسی، عبدالرحمان کھٹی، غلام مصطفیٰ سولنگی سمیت 300 سے زائد سگھڑوں نے دوہے، بیت، پہلیاں اور سندھی ادب کی مختلف اصناف پیش کیں۔
ثقافت ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل سیکرٹری عبدالغنی مہر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سگھڑ کا مطلب سلیقہ مند اور ماہر شخص ہے جو سندھی زبان کے الفاظ کو خوبصورت انداز میں پیش کر کے اپنا پیغام آسانی سے عوام تک پہنچاتا ہے۔
سگھڑ کچہری کے موقع پر لوک موسیقی کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں ایاز انور وسطڑو، امداد سموں، خادم سموں، امانت علی اور فرزانہ گل سمیت دیگر فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ علاوہ ازیں، کلچر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے سندھی دستکاری اور کتابوں کے اسٹال بھی لگائے گئے، جن پر زائرین اور مطالعے کے شوقین افراد کی بڑی تعداد موجود رہی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر کلچر سلیم سولنگی سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔