عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ نے ہفتے کے روز واشنگٹن کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے صحت کے ادارے سے علیحدگی کی بیان کردہ وجوہات کو مسترد کرتے ہوئے ڈبلیو ایچ او پر امریکا کی تنقید کو “غیر درست” قرار دیا۔

ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریاسس نے خبردار کیا کہ امریکا کی جانب سے رواں ہفتے ڈبلیو ایچ او سے باضابطہ طور پر دستبرداری کا اعلان “نہ صرف امریکا بلکہ پوری دنیا کو کم محفوظ بنا دیتا ہے۔”

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر ایک پوسٹ میں کہا، “بدقسمتی سے امریکا کے ڈبلیو ایچ او سے علیحدگی کے فیصلے کے لیے جو وجوہات بیان کی گئی ہیں وہ درست نہیں ہیں،” اور اس بات پر زور دیا کہ ڈبلیو ایچ او “ہمیشہ امریکا اور تمام رکن ممالک کے ساتھ ان کی خودمختاری کے مکمل احترام کے ساتھ رابطے میں رہا ہے۔”

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور امریکی وزیرِ صحت رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے جمعرات کو ایک مشترکہ بیان میں اعلان کیا کہ واشنگٹن نے باضابطہ طور پر ڈبلیو ایچ او سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ادارہ کووڈ-19 وبا کے دوران متعدد “ناکامیوں” کا مرتکب ہوا اور “بارہا امریکا کے مفادات کے خلاف” کام کرتا رہا۔

تاہم عالمی ادارۂ صحت نے تاحال اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ امریکا کی علیحدگی مؤثر ہو چکی ہے۔

By Syed Inam Ali Kazmi

میرا نام سید انعام علی کاظمی صحافتی میدان میں 2003 سے منسلک ہوں میں نے مختلف اخبارات کے ساتھ کام کیا اور گزشتہ 17-18 سال سے پاکستان کے ایک بڑے سرکاری ٹی وی چینل سے منسلک ہوں میرےتجربے میں مختلف موضوعات پر نیوز رپورٹنگ، بے شمار رپورٹس کی تیاری، اور پاکستان کی معروف سیاسی شخصیات کے انٹرویوز شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، میں روزانہ کی بنیاد پر مختلف موضوعات پر عوامی رائے اور معاشرتی مسائل پر ولاگ بناتا ہوں اور اپنا یوٹیوب چینل "انعام کاظمی ولاگ" اور ایک ٹک ٹاک اکاونٹ بھی ہے جہاں میں دلچسپ مواد شیئر کرتا ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *