بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع مظفر نگر میں ایک افسوسناک اور قابلِ مذمت واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک نجی اسکول کی استاد نے مسلمان طالب علم کو کلاس کے سامنے کھڑا کر کے دیگر طلبہ سے اسے تھپڑ مارنے کا کہا۔
تفصیلات کے مطابق مظفر نگر کے گاؤں خبّاپور میں واقع نیہا پبلک اسکول میں زیرِ تعلیم سات سالہ مسلمان بچے کو مبینہ طور پر مذہبی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔ وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ استاد نہ صرف بچے کو سزا دلواتی ہے بلکہ دوسرے بچوں کو بھی تھپڑ مارنے پر اُکساتی ہے۔
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آتے ہی ملک بھر میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ انسانی حقوق کے کارکنوں، سماجی حلقوں اور سیاسی رہنماؤں نے اس عمل کو بچوں کے حقوق، آئینِ ہند اور مذہبی ہم آہنگی کے خلاف قرار دیا۔
انتظامیہ کے مطابق واقعے کا نوٹس لے لیا گیا ہے، اسکول انتظامیہ سے جواب طلب کیا گیا جبکہ استاد کے خلاف بھی قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ متاثرہ بچے کے والدین نے انصاف اور ذمہ داروں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بھارت میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تعصب اور نفرت کی عکاسی کرتا ہے، جس پر فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے
photo by india coverimage