لندن / تہران:

برطانوی اخبار Daily Mail نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران بعض خواتین کے ساتھ انتہائی سنگین اور لرزہ خیز سلوک کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق، احتجاج میں شریک یا حکومت مخالف سمجھی جانے والی خواتین کو مبینہ طور پر حراست میں لینے کے بعد جنسی تشدد، جسمانی اذیت اور بگاڑ (mutilation) کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ بعض واقعات میں شواہد مٹانے کے لیے لاشوں کو جلانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔

ایران میں گزشتہ کچھ عرصے سے معاشی بدحالی، سماجی پابندیوں اور سیاسی جبر کے خلاف احتجاجی تحریکیں جاری ہیں۔ ان مظاہروں کے بعد متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں پہلے ہی جبری گمشدگیوں، تشدد اور اموات پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔

ڈیلی میل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ اقدامات ریاستی جبر کی پالیسی کا حصہ ہو سکتے ہیں، تاہم رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ان الزامات کی آزاد اور شفاف تحقیقات اب تک مکمل طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔

ان الزامات کے بعد عالمی سطح پر انسانی حقوق کے کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران میں ہونے والے مبینہ واقعات کی بین الاقوامی تحقیقات کرائی جائیں،متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائےاور خواتین کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

ایرانی حکام ماضی میں اس نوعیت کے الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مغربی میڈیا ایران کے خلاف منفی پروپیگنڈا کر رہا ہے۔ تاہم اس خبر پر ایرانی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی تازہ باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

واضح رہے کہ ڈیلی میل کی رپورٹ میں پیش کیے گئے نکات الزامات اور دعوؤں پر مبنی ہیں۔ حتمی نتائج کے لیے آزاد تحقیقات اور دیگر معتبر بین الاقوامی ذرائع کی تصدیق ضروری ہے۔

By Syed Inam Ali Kazmi

میرا نام سید انعام علی کاظمی صحافتی میدان میں 2003 سے منسلک ہوں میں نے مختلف اخبارات کے ساتھ کام کیا اور گزشتہ 17-18 سال سے پاکستان کے ایک بڑے سرکاری ٹی وی چینل سے منسلک ہوں میرےتجربے میں مختلف موضوعات پر نیوز رپورٹنگ، بے شمار رپورٹس کی تیاری، اور پاکستان کی معروف سیاسی شخصیات کے انٹرویوز شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، میں روزانہ کی بنیاد پر مختلف موضوعات پر عوامی رائے اور معاشرتی مسائل پر ولاگ بناتا ہوں اور اپنا یوٹیوب چینل "انعام کاظمی ولاگ" اور ایک ٹک ٹاک اکاونٹ بھی ہے جہاں میں دلچسپ مواد شیئر کرتا ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *