مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی محدود جھڑپوں کے بعد یہ سوال بین الاقوامی سطح پر زیرِ بحث آیا کہ آیا چین کو اس کشیدگی کے دوران اپنے جنگی جہازوں اور دفاعی ہتھیاروں کی صلاحیتیں دنیا کے سامنے لانے کا بالواسطہ موقع ملا یا نہیں، جس پر جرمن نشریاتی ادارے DW اردو کی ایک ویڈیو رپورٹ میں تجزیاتی انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے، رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جانب سے استعمال کیے گئے بعض دفاعی نظام چینی تعاون سے تیار شدہ تھے، جس کے باعث عالمی دفاعی ماہرین اور تھنک ٹینکس نے ان کی عملی کارکردگی کا بغور جائزہ لیا، ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی حقیقی تنازع میں ہتھیاروں کا استعمال دفاعی سازوسامان کی ایک طرح کی لائیو نمائش بن جاتا ہے جسے بعد میں عالمی اسلحہ مارکیٹ میں حوالہ بنایا جاتا ہے، تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ایسا کوئی مصدقہ ثبوت موجود نہیں کہ چین نے جان بوجھ کر اس لڑائی کو اپنے ہتھیاروں کی تشہیر یا مارکیٹنگ کے لیے استعمال کیا ہو، پاکستان نے اس پورے معاملے کو اپنی دفاعی حکمتِ عملی اور خودمختاری سے جوڑتے ہوئے کسی بھی بیرونی تشہیری پہلو کی تردید کی، جبکہ بعض بھارتی اور مغربی حلقوں میں یہ رائے سامنے آئی کہ اس صورتحال سے چین کو بالواسطہ فائدہ ضرور ہوا کیونکہ اس کے جنگی جہاز، ریڈار اور میزائل سسٹمز عالمی بحث کا موضوع بنے، دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق جنوبی ایشیا میں پاکستان، بھارت اور چین کے درمیان تزویراتی توازن پہلے ہی حساس ہے اور اسی لیے ایسی ہر کشیدگی کو محض جنگی نہیں بلکہ جیوپولیٹیکل زاویے سے بھی دیکھا جاتا ہے، نتیجتاً ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ مئی کی جھڑپوں کے بعد چین کے دفاعی سازوسامان پر عالمی توجہ تو بڑھی، مگر یہ معاملہ فی الحال ایک تجزیاتی سوال ہے، کوئی ثابت شدہ حقیقت نہیں، جبکہ چین نے اس حوالے سے عائد کیے گئے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ اپنی سائنسی اور دفاعی ترقی کی جانب گامزن ہے اور جو تحقیق، آزمائشیں اور تجربات کیے جا رہے ہیں ان کا مقصد کسی ملک کو نشانہ بنانا یا کسی ریاست پر الزام عائد کرنا نہیں، چین کے مطابق اس سے متعلق تمام دعوے بے بنیاد ہیں اور وہ ان الزامات سے برأت کا مطالبہ کرتا ہے۔