اسلام آباد/کراچی/لاہور: پاکستان کے مختلف شہروں میں کھلے گٹر، نالے اور مین ہولز شہریوں کے لیے جان لیوا خطرہ بنتے جا رہے ہیں، جہاں مختلف اخبارات اور نیوز ویب سائٹس کی رپورٹس کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران درجنوں افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جن میں بچے، خواتین اور بزرگ بھی شامل ہیں، جبکہ سب سے زیادہ متاثر شہر کراچی ہے جہاں سال 2024 میں کم از کم 19 افراد کھلے مین ہولز میں گر کر جاں بحق ہوئے اور 2025 کے دوران مختلف واقعات میں 20 سے 27 شہریوں کی اموات رپورٹ ہو چکی ہیں، کئی واقعات میں کمسن بچوں کی لاشیں گھنٹوں کی تلاش کے بعد نکالی گئیں، اسی طرح لاہور کے بھاٹی گیٹ، داتا دربار کے قریب حالیہ افسوسناک واقعے میں 24 سالہ خاتون سعدیہ اور ان کی 10 ماہ کی بیٹی کھلے گٹر میں گر کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں جہاں ابتدائی تحقیقات کے مطابق جائے حادثہ پر تعمیراتی کام جاری تھا لیکن حفاظتی انتظامات اور روشنی موجود نہیں تھی، جبکہ پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی ایسے واقعات سامنے آئے جن میں لودھراں میں دو کمسن بچوں کی کھلے مین ہول میں گر کر موت اور مختلف علاقوں میں شہریوں کے ساتھ ساتھ صفائی کے دوران کام کرنے والے مزدوروں کی زہریلی گیس یا گٹر میں گرنے سے ہلاکتیں شامل ہیں، تاہم افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں گٹر یا مین ہول میں گر کر ہونے والی اموات کا کوئی باقاعدہ قومی ڈیٹا موجود نہیں اور بیشتر واقعات صرف مقامی سطح پر رپورٹ ہو پاتے ہیں، شہریوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ کھلے اور ٹوٹے ہوئے مین ہول ڈھکن، ناقص نکاسیٔ آب اور بارشوں کے دوران نالوں کا اوور فلو ہونا ان حادثات کی بنیادی وجوہات ہیں، جبکہ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام کھلے گٹروں اور مین ہولز کو فوری طور پر محفوظ بنایا جائے، ذمہ دار بلدیاتی افسران کے خلاف کارروائی کی جائے اور شہری علاقوں میں مؤثر نگرانی کا نظام نافذ کیا جائے کیونکہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے اس سنگین مسئلے پر فوری اور سنجیدہ حکومتی توجہ ناگزیر ہو چکی ہے۔