جنوری 2026 میں، منییاپولیس، ریاست مینیسوٹا میں ایک امیگریشن آپریشن کے دوران 37 سالہ رینی نیکول گُڈ کو امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ایک ایجنٹ کی فائرنگ سے ہلاک کر دیا گیا، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب رینی نے ایجنٹس سے بچنے کے لیے اپنی گاڑی آگے بڑھا کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی، جبکہ حکام نے دعویٰ کیا کہ وہ سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتی تھیں، تاہم عینی شاہدین اور سامنے آنے والی ویڈیو فوٹیج نے اس موقف کو مسترد کیا، رینی اپنے تین بچوں — 15 سالہ بیٹی، 12 سالہ بیٹا اور 6 سالہ بیٹا — کی واحد اور بنیادی کفالت کرنے والی ماں تھیں، جن کی ہلاکت کے بعد بچے اپنی والدہ کے سائے اور نگہداشت سے محروم ہو گئے ہیں، اس المناک سانحے نے پورے امریکہ میں شدید ردِعمل پیدا کیا اور ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے، جس میں ناقدین نے ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں اور ICE کی کارروائیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے سنگین الزامات عائد کیے، عوامی دباؤ کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں میں شفافیت، جواب دہی اور احتساب کو بہتر بنانے کے مطالبات میں اضافہ ہوا، جبکہ یہ واقعہ اس بحث کا بھی سبب بنا کہ سیکیورٹی اقدامات اور شہری آزادیوں کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے، تاہم دوسری جانب مقامی کمیونٹی اور عوام نے متاثرہ خاندان سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا اور بچوں کی مدد کے لیے بھاری مالی امداد جمع کی، تاکہ وہ اس مشکل وقت میں اپنے تعلیمی، جذباتی اور بنیادی ضروریات کے مسائل کا سامنا بہتر انداز میں کر سکیں، مجموعی طور پر یہ سانحہ امریکہ میں امیگریشن، وفاقی اختیارات اور انسانی حقوق پر جاری قومی مباحثے کو مزید تیز کر چکا ہے اور ممکنہ طور پر یہ مستقبل کی پالیسی سازی پر بھی اثر انداز ہوگا، جبکہ حکومت کو عوامی تحفظات دور کرنے اور شہریوں کا اعتماد بحال کرنے کے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔
A vigil held for Renee Nicole Good in Minneapolis on Jan. 7. Kerem YUCEL / AFP via Getty(Credit)