France میں عوام کے سامنے دی جانے والی آخری سزائے موت 17 جون 1939 کو شہر Versailles میں دی گئی جب جرمن نژاد سیریل کلر Eugen Weidmann کو گیلوٹین کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارا گیا، ویڈمان نے 1937 میں فرانس آ کر امیر سیاحوں اور کاروباری افراد کو جھانسہ دے کر ویران مقامات پر لے جا کر کم از کم چھ افراد کو قتل کیا اور لوٹ مار کی وارداتیں کیں، پولیس نے اسے اسی سال گرفتار کیا جبکہ 1939 میں عدالت نے اسے سزائے موت سنائی، سزا ورسائی کی سینٹ پیئر جیل کے باہر علی الصبح دی گئی جہاں بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے تاہم یہ منظر سنجیدہ عدالتی عمل کے بجائے تماشے میں بدل گیا، کچھ افراد نے تصاویر اور ویڈیوز بھی بنائیں جس پر حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور اسی واقعے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ سزائے موت عوام کے سامنے نہیں دی جائے گی بلکہ جیل کے اندر خفیہ طور پر عمل میں لائی جائے گی، بعد ازاں 1981 میں فرانس نے سزائے موت مکمل طور پر ختم کر دی اور یوں 1939 کا یہ واقعہ فرانس کی عدالتی تاریخ کا ایک اہم اور متنازع موڑ ثابت ہوا۔