امریکہ کی United States Supreme Court نے 20 فروری 2026 کو ایک تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عائد کردہ عالمی ٹیرفز کو غیر قانونی قرار دے دیا، جسے انہوں نے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (IEEPA) کے تحت نافذ کیا تھا — عدالت نے کہا کہ صدر نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا اور کانگریس کو ٹیرف عائد کرنے کا واحد اختیار حاصل ہے۔ یہ فیصلہ 6-3 کی اکثریت سے آیا، جس میں پانچ ججوں نے اتفاق کیا کہ IEEPA ٹیرفز لگانے کا اختیار نہیں دیتا، جبکہ تین جج اختلافی رائے میں رہے ہیں۔
اس فیصلے کے نتیجے میں حکومت کو امریکی کمپنیوں سے پہلے ادا کیے گئے ٹیرفز کی صورت میں لگ بھگ $175 ارب تک ریفنڈز کا سامنا ہو سکتا ہے، کیونکہ اب وہ ان ٹیرفز کو واپس مانگنے کے اہل ہو سکتے ہیں — اگلے مرحلے میں یہ معاملہ امریکی عدالتِ بین الاقوامی تجارت کو بھیجا گیا ہے تاکہ ریفنڈز کے طریقہ کار پر فیصلہ کیا جائے۔ اس کا عالمی تجارت، امریکی معیشت اور صدر کی تجارتی پالیسی پر گہرا اثر پڑنے کا امکان ہے، اور ماہرین اس فیصلے کو ایک بڑے آئینی اور اقتصادی دھچکے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔