امریکہ کی United States Supreme Court نے 20 فروری 2026 کو ایک تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عائد کردہ عالمی ٹیرفز کو غیر قانونی قرار دے دیا، جسے انہوں نے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (IEEPA) کے تحت نافذ کیا تھا — عدالت نے کہا کہ صدر نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا اور کانگریس کو ٹیرف عائد کرنے کا واحد اختیار حاصل ہے۔ یہ فیصلہ 6-3 کی اکثریت سے آیا، جس میں پانچ ججوں نے اتفاق کیا کہ IEEPA ٹیرفز لگانے کا اختیار نہیں دیتا، جبکہ تین جج اختلافی رائے میں رہے ہیں۔

اس فیصلے کے نتیجے میں حکومت کو امریکی کمپنیوں سے پہلے ادا کیے گئے ٹیرفز کی صورت میں لگ بھگ $175 ارب تک ریفنڈز کا سامنا ہو سکتا ہے، کیونکہ اب وہ ان ٹیرفز کو واپس مانگنے کے اہل ہو سکتے ہیں — اگلے مرحلے میں یہ معاملہ امریکی عدالتِ بین الاقوامی تجارت کو بھیجا گیا ہے تاکہ ریفنڈز کے طریقہ کار پر فیصلہ کیا جائے۔ اس کا عالمی تجارت، امریکی معیشت اور صدر کی تجارتی پالیسی پر گہرا اثر پڑنے کا امکان ہے، اور ماہرین اس فیصلے کو ایک بڑے آئینی اور اقتصادی دھچکے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

By Syed Inam Ali Kazmi

میرا نام سید انعام علی کاظمی صحافتی میدان میں 2003 سے منسلک ہوں میں نے مختلف اخبارات کے ساتھ کام کیا اور گزشتہ 17-18 سال سے پاکستان کے ایک بڑے سرکاری ٹی وی چینل سے منسلک ہوں میرےتجربے میں مختلف موضوعات پر نیوز رپورٹنگ، بے شمار رپورٹس کی تیاری، اور پاکستان کی معروف سیاسی شخصیات کے انٹرویوز شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، میں روزانہ کی بنیاد پر مختلف موضوعات پر عوامی رائے اور معاشرتی مسائل پر ولاگ بناتا ہوں اور اپنا یوٹیوب چینل "انعام کاظمی ولاگ" اور ایک ٹک ٹاک اکاونٹ بھی ہے جہاں میں دلچسپ مواد شیئر کرتا ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *