سیہون شریف میں واقع عظیم صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار پر حاضری کے بعد گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رمضان المبارک کی آمد، ملکی معیشت اور سیاسی مفاہمت پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔
گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک ایک بابرکت مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کو بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اس مقدس مہینے کی برکت سے پاکستان میں خوشحالی اور ترقی آئے اور معاشی بہتری کے مثبت نتائج سامنے آئیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ مہینہ ایک دوسرے کو معاف کرنے کا ہے اور ملک کی معیشت کو درست کرنے کے لیے سب کو ایک پیج پر بیٹھنا ہوگا۔ “ہم سب سے غلطیاں ہوئی ہیں، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ دل بڑا کرکے معافی مانگیں اور صوبے کی ترقی کے لیے مل کر کام کریں۔”
کامران ٹیسوری نے کہا کہ سندھ پورے پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور تقریباً 70 فیصد ٹیکس دیتا ہے، تاہم صوبے میں تعلیم، صحت اور ترقیاتی کاموں کا فقدان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “چھوٹی چھوٹی باتوں پر بڑی آواز اٹھانے کے بجائے ہمیں صوبے کی ترقی، تعلیم اور صحت کے معیار کی بہتری کے لیے متحد ہونا ہوگا۔”
انہوں نے کہا کہ گورنر ہاؤس کے دروازے 24 گھنٹے عوام کے لیے کھلے ہیں اور وہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر بٹھانے کے لیے تیار ہیں۔ “اگر کسی کو عزت میں کمی محسوس ہو رہی ہے تو وہ بتائے، میں خود اس کے پاس جاؤں گا۔”
گورنر سندھ نے کہا کہ سندھی، بلوچ، مہاجر اور پختون سب بھائی ہیں اور ہمیں قومیت پرستی سے بالاتر ہو کر امن اور محبت کے لیے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قلندر کی نگری ہمیشہ سے امن، پیار اور بھائی چارے کا گہوارہ رہی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ جھوٹ، بے ایمانی اور کرپشن کو چھوڑنا ہوگا اور ملک کی ترقی کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ “کب تک ہم وفاق کے سامنے ہاتھ پھیلاتے رہیں گے، ہمیں خود کفیل بننا ہوگا۔ سیاست ہمیں آپس میں لڑا رہی ہے جبکہ فائدہ کوئی اور اٹھا رہا ہے۔”
گورنر سندھ نے اپیل کی کہ کسی بڑے نقصان سے پہلے سب سیاسی و سماجی قوتیں ایک جگہ کھڑی ہوں اور ماضی کی کوتاہیوں کا ازالہ کرتے ہوئے صوبے اور ملک کی ترقی کے لیے عملی اقدامات کریں۔