اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے اشتراک سے نیویارک میں قائم پاکستان کے قونصل جنرل خانے نے اقوامِ متحدہ کے صدر دفتر میں کمیشن برائے سماجی ترقی کے 64ویں اجلاس (CSocD64) کے موقع پر ایک سائیڈ ایونٹ کا انعقاد کیا، جس کا عنوان تھا:
“کسی کو پیچھے نہ چھوڑنا: تنازعات اور زیرِ قبضہ علاقوں میں سماجی ترقی کے چیلنجز”۔

یہ تقریب یومِ یکجہتیٔ کشمیر کے سلسلے میں منعقد کی گئی، جس کا مقصد غیر ملکی قبضے اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں رہنے والی آبادیوں کو درپیش سماجی، معاشی اور انسانی ترقی کے مسائل کو اجاگر کرنا تھا، بالخصوص جموں و کشمیر کی صورتحال پر خصوصی توجہ دی گئی۔
اپنے کلیدی خطاب میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے، سفیر عاصم افتخار احمد نے اس امر پر زور دیا کہ طویل تنازعات اور قبضے کی صورتحال میں پائیدار سماجی ترقی کا حصول ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق سے محرومی، سیاسی آزادیوں پر قدغنیں اور سماجی و معاشی پسماندگی نے جامع اور مساوی ترقی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی برادری پر یہ اجتماعی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو یقینی بنائے اور “کسی کو پیچھے نہ چھوڑنے” کے عزم کو حقیقی معنوں میں نافذ کرے۔
پینل مباحثے میں ترکیہ کے مستقل نمائندے اور او آئی سی کونسل آف فارن منسٹرز کے چیئرمین سفیر احمد یلدز، اسلامی تعاون تنظیم کے مستقل مبصر سفیر حمید اجیبایے اوپیلویرو، فلسطینی صحافی عبد الحمید سیام، ورلڈ فورم فار پیس اینڈ جسٹس کے چیئرمین ڈاکٹر غلام نبی فائی اور ایک کشمیری نمائندے نے شرکت کی۔
معزز مقررین نے طویل المدتی تنازعات کے انسانی اور ترقیاتی نقصانات کو اجاگر کرتے ہوئے شہری آزادیوں پر پابندیوں، تعلیم و صحت کی سہولیات تک محدود رسائی اور متاثرہ آبادیوں پر پڑنے والے وسیع تر سماجی و معاشی اثرات کی نشاندہی کی۔ مقررین نے کثیرالجہتی سفارتکاری، بین الاقوامی انسانی و انسانی حقوق کے قوانین کی پاسداری اور حل طلب تنازعات پر عالمی توجہ کی اہمیت پر زور دیا۔
اختتامی کلمات میں نیویارک میں پاکستان کے قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی نے کہا کہ کشمیر ایک سنگین انسانی اور انسانی حقوق کا مسئلہ ہے، جس کے سماجی ترقی اور علاقائی استحکام پر براہِ راست اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے عوام کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کیا اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ انصاف، انسانی وقار اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں درج اصولوں کی پاسداری کرے۔
قونصل جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعہ کشمیر کا منصفانہ اور پائیدار حل ہی خطے میں امن، استحکام اور جامع ترقی کی ضمانت بن سکتا ہے۔