ایبٹ آباد پولیس نے ہنی ٹریپ اور اغواء برائے تاوان جیسے سنگین جرائم میں ملوث بین الصوبائی گروہ کو بے نقاب کرتے ہوئے دو مرکزی ملزمان کو گرفتار کر کے مغوی کو بحفاظت بازیاب کروا لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایس ایچ او تھانہ میرپور اصغر خان کو فرانس میں مقیم ایک شہری نے واٹس ایپ کال کے ذریعے اطلاع دی کہ اس کے والد عبدالعزیز شادی کے سلسلے میں ملتان سے ایبٹ آباد آئے ہوئے تھے، جن سے اچانک رابطہ منقطع ہو گیا اور ان کا موبائل فون مسلسل بند جا رہا ہے۔
اسی دوران مدعی کو ایک نامعلوم نمبر سے کال موصول ہوئی، جس میں ملزمان نے مغوی عبدالعزیز کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ویڈیو ارسال کر کے ان کی رہائی کے بدلے 15 کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا اور رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں جان سے مارنے کی سنگین دھمکیاں دیں۔
پولیس نے جدید تکنیکی ذرائع استعمال کرتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ایک ٹیکسی ڈرائیور کو ٹریس کیا، جس کی نشاندہی پر پولیس ٹیم نے عثمان آباد ایبٹ آباد میں کامیاب چھاپہ مار کارروائی کی۔ کارروائی کے دوران دو مرکزی ملزمان وسیم عباس اور بی بی شبیر احمد کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ مغوی عبدالعزیز ملانا کو بحفاظت بازیاب کروا لیا گیا۔
دورانِ تفتیش انکشاف ہوا کہ واردات ایک منظم بین الصوبائی گروہ نے انجام دی، جس میں شامل ایک خاتون نے مغوی کو ہنی ٹریپ کے ذریعے اپنے جال میں پھنسایا اور بعد ازاں اسے عثمان آباد میں موجود ساتھیوں کے حوالے کر دیا۔
پولیس نے گرفتار ملزمان کے خلاف دفعہ 365-A کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔
