خواتین کے خلاف تشدد پر ایوان میں سخت ردِعمل، کھوکھلے نعروں پر تنقید
نئی دہلی: خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اور اس پر ریاستی رویّے کے حوالے سے قانون ساز ایوان میں شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا، جہاں ایک متنازع جملہ
“یہ ناگزیر ہے، لیٹ جاؤ اور برداشت کرو”
سخت تنقید کی زد میں آ گیا۔ اس جملے کو خواتین کے مسائل کو غیر سنجیدہ لینے اور تشدد کو معمول بنا دینے کی خطرناک سوچ قرار دیا جا رہا ہے۔
ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے Rakhi Birla نے کہا کہ خواتین کے تحفظ سے متعلق صرف نعرے لگانا کافی نہیں، بلکہ اصل مسئلہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کا فقدان ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خواتین کے تحفظ کے لیے قوانین تو موجود ہیں، مگر ادارہ جاتی ناکامی اور عدم جوابدہی کے باعث حالات بدستور خراب ہیں۔
راکھی برلا نے ایوان میں حکومتی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر خواتین کے خلاف جرائم کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو یہ رویّہ معاشرے کے لیے مزید خطرناک نتائج پیدا کرے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خواتین کے تحفظ کے لیے صرف بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات اور ذمہ داروں کے خلاف واضح کارروائی کی جائے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد کا مسئلہ صرف سماجی نہیں بلکہ ریاستی سنجیدگی اور عملدرآمد سے بھی جڑا ہوا ہے، جس پر فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔