راولپنڈی: سابق وزیرِ اعظم اور بانیٔ پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے ذاتی معالج اور شوکت خانم ہسپتال کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر عاصم یوسف اڈیالہ جیل کے باہر پہنچ گئے، تاہم انہیں تاحال عمران خان کا طبی معائنہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عاصم یوسف نے جیل حکام سے اندر جانے کی اجازت طلب کی، مگر انتظامیہ کی جانب سے اجازت نہ مل سکی۔ یاد رہے کہ نومبر 2024 کے بعد عمران خان کے ذاتی معالجین، جن میں ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف شامل ہیں، کو باقاعدہ طبی معائنہ کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے اندر عمران خان کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اسی تناظر میں خیبرپختونخواہ سے پی ٹی آئی رہنما سہیل آفریدی نے تمام پارٹی پارلیمنٹرینز کو اڈیالہ جیل پہنچنے کی کال دے دی ہے۔
اسی سلسلے میں جنرل سیکرٹری پاکستان تحریک انصاف ملک عامر علی بھی اپنی ٹیم کے ہمراہ اڈیالہ جیل پہنچ گئے۔ ملک عامر علی نے کارکنان اور پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کی کہ وہ اس مشکل گھڑی میں عمران خان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچیں اور بھرپور شرکت کریں۔
پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کو آنکھوں سمیت دیگر طبی مسائل درپیش ہیں اور ذاتی معالجین کو رسائی نہ دینا تشویشناک ہے۔ دوسری جانب حکومتی مؤقف ہے کہ عمران خان کی صحت تسلی بخش ہے اور انہیں جیل میں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
قانونی اور انسانی حقوق کے حلقوں نے بھی قیدی کو ذاتی معالج تک رسائی نہ دینے پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ اس معاملے پر سیاسی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ عمران خان اس وقت اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قید ہیں اور ان کی صحت سے متعلق صورتحال ایک بار پھر ملکی سیاست کا اہم موضوع بن چکی ہے۔