Screenshot

 

اوٹاوا (26 جنوری 2026)
کینیڈا کے وزیراعظم Mark Carney نے اشیائے خورونوش اور روزمرہ ضروریات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال اور معاشی غیر یقینی کے تناظر میں کینیڈا ایک مضبوط اور خودانحصار معیشت کی جانب بڑھ رہا ہے تاکہ شہریوں کی زندگی مزید قابلِ برداشت بنائی جا سکے۔

حکومتی اعلامیے کے مطابق نئی پالیسی کا مقصد بیرونی تجارتی شراکت داریوں کو فروغ دینا، اندرونِ ملک سرمایہ کاری بڑھانا، بہتر روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور کینیڈین عوام کے لیے آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔ حکومت پہلے ہی 22 ملین شہریوں کے لیے ٹیکس میں کمی، گھروں کی تعمیر میں تیزی اور سماجی تحفظ کے پروگراموں کے دائرہ کار میں توسیع جیسے اقدامات کر چکی ہے۔

اسی تسلسل میں وزیراعظم نے اشیائے خورونوش کو سستا بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات کا اعلان کیا:

اہم اقدامات:
حکومت ایک نئے کینیڈا گروسیز اینڈ ایسینشلز بینیفٹ کا اجرا کر رہی ہے، جو پہلے جی ایس ٹی کریڈٹ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس امداد میں جولائی 2026 سے پانچ سال کے لیے 25 فیصد اضافہ کیا جائے گا، جبکہ رواں سال اس میں 50 فیصد کے مساوی ایک بار کی اضافی ادائیگی بھی دی جائے گی۔ اس اقدام کے تحت چار افراد پر مشتمل خاندان کو رواں سال 1,890 ڈالر تک جبکہ آئندہ چار سال تک سالانہ تقریباً 1,400 ڈالر ملیں گے۔ اکیلا فرد رواں سال 950 ڈالر اور آئندہ برسوں میں سالانہ تقریباً 700 ڈالر حاصل کر سکے گا۔ اس پروگرام سے 1 کروڑ 20 لاکھ سے زائد کینیڈین مستفید ہوں گے۔

خوراک کی قلت سے نمٹنے اور سپلائی چین کو مستحکم کرنے کے لیے حکومت اسٹریٹجک رسپانس فنڈ سے 500 ملین ڈالر مختص کرے گی تاکہ کاروباری ادارے اضافی لاگت صارفین پر منتقل نہ کریں۔ اس کے علاوہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے 150 ملین ڈالر کا فوڈ سیکیورٹی فنڈ قائم کیا جائے گا۔ حکومت نے گرین ہاؤسز کی تعمیر پر فوری ٹیکس چھوٹ کا اعلان بھی کیا ہے تاکہ مقامی غذائی پیداوار میں اضافہ ہو سکے۔

فوڈ بینکس پر دباؤ کم کرنے کے لیے لوکل فوڈ انفراسٹرکچر فنڈ کے تحت 20 ملین ڈالر فراہم کیے جائیں گے، جبکہ طویل المدتی بنیادوں پر قومی فوڈ سیکیورٹی حکمتِ عملی تیار کی جا رہی ہے، جس کا مقصد سستی اور معیاری خوراک تک عوام کی رسائی کو یقینی بنانا ہے۔

وزیراعظم مارک کارنی کا کہنا تھا کہ کینیڈا کی اصل طاقت یہ ہے کہ یہاں کامیابی کے لیے امیر گھرانے میں پیدا ہونا ضروری نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی معیشت تعمیر کر رہی ہے جو ہر فرد کو آگے بڑھنے کا موقع دے۔

وزیرِ خزانہ François-Philippe Champagne کے مطابق حکومت براہِ راست اقدامات کے ذریعے عوام کو فوری ریلیف فراہم کر رہی ہے، جبکہ زرعی پیداوار اور مسابقت کو فروغ دے کر مستقبل کے لیے ایک مضبوط معیشت کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔

وزیرِ زراعت Heath MacDonald نے کہا کہ یہ اقدامات زرعی شعبے کو سہارا دینے کے ساتھ ساتھ خاندانوں پر بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

وزیرِ صنعت Mélanie Joly کا کہنا تھا کہ حکومت فوڈ سپلائی چین میں مسابقت بحال کر کے قیمتوں میں کمی اور صارفین کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

حکومت کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف مہنگائی کے فوری اثرات کو کم کریں گے بلکہ مستقبل میں ایک مستحکم، منصفانہ اور خوشحال کینیڈا کی بنیاد بھی مضبوط کریں گے۔

By Syed Inam Ali Kazmi

میرا نام سید انعام علی کاظمی صحافتی میدان میں 2003 سے منسلک ہوں میں نے مختلف اخبارات کے ساتھ کام کیا اور گزشتہ 17-18 سال سے پاکستان کے ایک بڑے سرکاری ٹی وی چینل سے منسلک ہوں میرےتجربے میں مختلف موضوعات پر نیوز رپورٹنگ، بے شمار رپورٹس کی تیاری، اور پاکستان کی معروف سیاسی شخصیات کے انٹرویوز شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، میں روزانہ کی بنیاد پر مختلف موضوعات پر عوامی رائے اور معاشرتی مسائل پر ولاگ بناتا ہوں اور اپنا یوٹیوب چینل "انعام کاظمی ولاگ" اور ایک ٹک ٹاک اکاونٹ بھی ہے جہاں میں دلچسپ مواد شیئر کرتا ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *