ہولوکاسٹ دوسری جنگِ عظیم (1939–1945) کے دوران نازی جرمنی کی جانب سے کی جانے والی منظم نسل کشی کو کہا جاتا ہے، جس میں ایڈولف ہٹلر کے اقتدار میں آنے کے بعد نازی نظریے کے تحت جرمن نسل کو “اعلیٰ” اور یہودیوں سمیت دیگر اقلیتوں کو “کم تر” قرار دیا گیا، 1935 میں نیورمبرگ قوانین کے ذریعے یہودیوں سے شہریت، روزگار اور بنیادی حقوق چھین لیے گئے جبکہ 1938 میں کریسٹال ناخٹ کے دوران عبادت گاہوں اور دکانوں کو نذرِ آتش کر کے کھلا تشدد کیا گیا، بعد ازاں نازیوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت حراستی کیمپ قائم کیے جہاں لوگوں کو ٹرینوں کے ذریعے منتقل کر کے گیس چیمبرز، جبری مشقت، بھوک، بیماری اور فائرنگ اسکواڈز کے ذریعے قتل کیا گیا، جن میں سب سے بدنام کیمپ Auschwitz-Birkenau تھا؛ مستند تاریخی اندازوں کے مطابق اس نسل کشی میں تقریباً 60 لاکھ یہودی، 2 سے 3 لاکھ معذور افراد، لگ بھگ 20 لاکھ پولش شہری، رومانی باشندے، ہم جنس پرست افراد، سیاسی مخالفین، کمیونسٹ اور صحافی جان سے گئے اور مجموعی ہلاکتیں تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ تک پہنچیں، جبکہ 2026 تک دنیا بھر میں اندازاً 2 لاکھ 45 ہزار کے قریب ہولوکاسٹ سروائیور زندہ ہیں جن کی اکثریت 85 برس سے زائد عمر کی ہے اور وہ اسرائیل، امریکہ اور یورپ میں مقیم ہو کر تعلیمی اداروں اور عالمی فورمز پر اپنی داستانیں سنا کر نفرت کے خلاف آگاہی دیتے ہیں؛ عالمی سطح پر ہولوکاسٹ کو تاریخ کا بدترین انسانی جرم تسلیم کیا جاتا ہے اور اقوامِ متحدہ، یورپی یونین، کینیڈا اور جرمنی سمیت کئی ممالک میں انکارِ ہولوکاسٹ قانونی جرم ہے، جس کا بنیادی سبق یہ ہے کہ نسل، مذہب یا قوم کی بنیاد پر نفرت اور ریاستی طاقت کا غلط استعمال انسانیت کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔

By Syed Inam Ali Kazmi

میرا نام سید انعام علی کاظمی صحافتی میدان میں 2003 سے منسلک ہوں میں نے مختلف اخبارات کے ساتھ کام کیا اور گزشتہ 17-18 سال سے پاکستان کے ایک بڑے سرکاری ٹی وی چینل سے منسلک ہوں میرےتجربے میں مختلف موضوعات پر نیوز رپورٹنگ، بے شمار رپورٹس کی تیاری، اور پاکستان کی معروف سیاسی شخصیات کے انٹرویوز شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، میں روزانہ کی بنیاد پر مختلف موضوعات پر عوامی رائے اور معاشرتی مسائل پر ولاگ بناتا ہوں اور اپنا یوٹیوب چینل "انعام کاظمی ولاگ" اور ایک ٹک ٹاک اکاونٹ بھی ہے جہاں میں دلچسپ مواد شیئر کرتا ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *