وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کا صوبے کو تجربہ گاہ بنانے سے انکار، اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کی ہدایت
چکدرہ: وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبہ کسی کی تجربہ گاہ نہیں اور وہ پختونوں اور خیبرپختونخواہ کے عوام کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔
چکدرہ میں اسٹریٹ موومنٹ کے سلسلے میں منعقدہ احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکمران عوام سے خوفزدہ ہیں جبکہ عزت و ذلت، زندگی اور موت اللہ کے اختیار میں ہے اور وہ کسی سے ڈرنے والے نہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ عمران خان کے سپاہی ہیں اور ان کی کابینہ کے تمام ارکان بھی ان کے سپاہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ہمارے بچوں کے مستقبل کی خاطر جیل میں ہیں جبکہ ان کی بہنیں قربانیاں دے رہی ہیں، مگر عدالتیں انہیں انصاف فراہم نہیں کر پا رہیں۔
وزیراعلیٰ نے خدشہ ظاہر کیا کہ یا تو انہیں قتل کیا جائے گا، یا گورنر راج نافذ ہوگا، یا ان کی حکومت ختم کی جائے گی، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ عمران خان کی ہدایت ہے کہ اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کی جائے۔ “آج میں نے خود دیکھا کہ لوگ عشقِ عمران میں مبتلا ہیں۔ مذاکرات اور احتجاج کا فیصلہ پہلے اچکزئی کرتے تھے، لیکن اب اڈیالہ سے فیصلہ آئے گا کہ مذاکرات کا وقت ختم ہوچکا ہے اور اب احتجاج ہوگا،” انہوں نے کہا۔
اس موقع پر صوبائی صدر اور رکن قومی اسمبلی جنید اکبر نے کارکنوں سے عہد لیا کہ اگر گورنر راج نافذ کیا گیا تو وہ سب یک زبان ہو کر نکل کھڑے ہوں گے۔
جلسے کے دوران بانی پی ٹی آئی کے حق میں مسلسل نعرے بازی ہوتی رہی۔
قبل ازیں وزیراعلیٰ کے چکدرہ پہنچنے پر پارٹی کارکنوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ وہ دوپہر دو بجے پہنچنے والے تھے تاہم شام پانچ بجے کے قریب پہنچے۔
صبح سے ہی لوئر دیر، اپر دیر اور باجوڑ سے پی ٹی آئی کے منتخب نمائندوں کی قیادت میں کارکنان چکدرہ چوک پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔ وزیراعلیٰ کی آمد تک چوک کارکنوں سے کھچا کھچ بھر چکا تھا۔
ان کی آمد سے قبل ایم پی ایز ملک شفیع اللہ، عبید الرحمن، ہمایون خان، ملک لیاقت علی، اعظم خان، انورزیب، رضااللہ اور سابق ایم این اے گل داد سمیت دیگر رہنماؤں نے کارکنوں سے خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ آٹھ فروری کو بانی عمران خان کی رہائی کے لیے انسانوں کا سمندر سڑکوں پر نکل آئے گا اور وہ جلد عوام کے درمیان ہوں گے کیونکہ انہیں مزید جیل میں نہیں رکھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کارکن پہلے بھی قربانیاں دے چکے ہیں اور آئندہ بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
جلسے کے دوران کارکن انتہائی پرجوش رہے اور وقفے وقفے سے نعرے لگاتے رہے۔ چونکہ جلسہ سڑک پر منعقد کیا گیا تھا، اس لیے مظاہرین نے ایمبولینس اور ایک بیمار خاتون کی گاڑی کو راستہ دیا۔