منییاپولِس، منی سوٹا
امریکی سینیٹر
Bernie Sanders
نے اپنے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر جاری بیان میں مینیسوٹا میں ہونے والے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان بہادر افراد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جو شدید سردی اور منفی درجۂ حرارت کے باوجود امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے خلاف کھڑے ہیں، برنی سینڈرز جو امریکا میں ترقی پسند سیاست کے نمایاں رہنما سمجھے جاتے ہیں، امیگریشن پالیسیوں، انسانی حقوق، سماجی انصاف اور جمہوری آزادیوں کے مضبوط حامی ہیں اور ماضی میں بھی ICE سمیت حکومتی اداروں کی سخت گیر امیگریشن پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں، ان کا مؤقف ہے کہ طاقت اور جبر کے بجائے انسانی ہمدردی، قانون اور جمہوری اقدار کے دائرے میں رہتے ہوئے فیصلے ہونے چاہئیں، انہوں نے کہا کہ امریکی عوام آمریت نہیں بلکہ جمہوریت اور انصاف چاہتے ہیں اور جب عوام متحد ہو کر کھڑے ہوتے ہیں تو کامیابی ان کا مقدر بنتی ہے۔
24 جنوری 2026: امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر منیاپولِس میں سخت سردی اور برف باری کے باوجود ہزاروں افراد نے Immigration and Customs Enforcement (ICE) کے خلاف احتجاج کیا، جس کی بنیاد 2026 کے اوائل میں وفاقی امیگریشن اہلکاروں کے ساتھ پیش آنے والے پرتشدد واقعات اور طاقت کے مبینہ بے جا استعمال پر عوامی غم و غصہ بنا؛ ان واقعات میں ایک ICE ایجنٹ کے ہاتھوں 37 سالہ امریکی شہری رینی گڈ کی ہلاکت شامل تھی، جس کے بعد Minnesota General Strike کے نام سے ریاست بھر میں کام، اسکول اور کاروبار بند رکھنے کی کال دی گئی اور ہزاروں مظاہرین زیرو سے کم درجہ حرارت میں سڑکوں پر نکل آئے، جبکہ 24 جنوری کو مظاہروں میں شریک 37 سالہ ایلکس پریٹی کی فائرنگ سے ہلاکت نے احتجاج کو مزید شدت دے دی؛ مظاہرین کا کہنا تھا کہ امریکی عوام آمرانہ طرزِعمل نہیں بلکہ جمہوریت اور انصاف چاہتے ہیں اور اتحاد ہی کامیابی کی ضمانت ہے، اس موقع پر سماجی کارکنان، طلبہ اور مزدور رہنماؤں نے ICE کی موجودگی کے خاتمے، اہلکاروں کی جوابدہی اور امیگریشن پالیسیوں میں اصلاحات کا مطالبہ کیا، جب کہ مقامی قیادت بشمول گورنر Tim Walz اور شہر کے میئر نے بھی وفاقی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے عوام کے پُرامن احتجاج کے حق کی حمایت کی۔