اٹک: سابق چیئرمین کوآرڈینیشن فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری، نائب صدر فیڈریشن چیمبر اور بانی صدر اٹک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری مرزا عبدالرحمن نے ڈائریکٹر جنرل ٹریڈ آرگنائزیشن کی حالیہ وضاحت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی ٹریڈ باڈیز کی آڑ میں کام کرنے والی غیر قانونی اور جعلی انجمنوں کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھر کی تمام مستند ٹریڈ باڈیز اس فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہیں، کیونکہ چند مفاد پرست عناصر جن کا نہ کوئی نمایاں کاروبار ہے اور نہ ہی ٹیکس نیٹ میں کوئی حیثیت، ذاتی مفادات، سستی شہرت اور روزی روٹی کی خاطر جعلی تنظیمیں بنا کر حکومتی اداروں کو بلیک میل کرتے اور مارکیٹوں میں دکانداروں کے درمیان بے چینی اور افراتفری پھیلاتے ہیں۔ مرزا عبدالرحمن نے مطالبہ کیا کہ ڈائریکٹر جنرل ٹریڈ آرگنائزیشن ایسے نان رجسٹرڈ اور غیر فعال گروہوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کریں، کیونکہ اضلاع اور شہروں میں باقاعدہ چیمبرز، ایسوسی ایشنز اور ٹریڈ باڈیز پہلے ہی موجود ہیں جو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور ایف پی سی سی آئی سے منسلک ہیں، جن کے باضابطہ الیکشن، ایگزیکٹو بورڈ، آفس بیئررز اور مستند عملہ موجود ہے اور یہ ادارے ملکی و غیر ملکی معاشی ترقی میں مثبت اور فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔