مسح علینژاد (Masih Alinejad) ایک معروف ایرانی نژاد امریکی حقوق کی علمبردار سیاسی کارکن، صحافی اور انسانی۔ مسح علینژاد ایران میں خواتین پر جبری حجاب اور آزادیٔ اظہار پر پابندیوں کے خلاف اپنی جرات مندانہ آواز کے باعث عالمی سطح پر پہچانی جاتی ہیں۔ وہ ایران میں حکومت کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرنے کی وجہ سے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئیں اور بعد ازاں امریکہ میں مقیم ہو گئیں۔
انہوں نے خواتین کے حقوق کے لیے متعدد عالمی مہمات چلائیں، جن میں “My Stealthy Freedom” اور “White Wednesdays” شامل ہیں، جن کا مقصد ایرانی خواتین کو اپنی مرضی کے لباس اور آزادیٔ رائے کا حق دلانا ہے۔
مسح علینژاد مختلف بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ رہ چکی ہیں اور اقوامِ متحدہ، یورپی پارلیمنٹ اور امریکی کانگریس سمیت کئی عالمی فورمز پر انسانی حقوق کے حوالے سے آواز اٹھا چکی ہیں۔
ایرانی حکومت کی شدید مخالفت کے باعث انہیں مسلسل دھمکیوں اور خطرات کا سامنا رہا، حتیٰ کہ امریکہ میں ان کے خلاف مبینہ اغوا اور قتل کی سازشوں کے کیسز بھی منظرِ عام پر آ چکے ہیں، جس کے بعد امریکی حکام نے انہیں سکیورٹی فراہم کی۔ مسح علینژاد آج بھی ایران میں خواتین اور انسانی حقوق کی جدوجہد کی ایک توانا علامت سمجھی جاتی ہیں۔
@sbsnews_au Iranian American journalist and political dissident Masih Alinejad addressed Iran’s representative seated at an emergency United Nations Security Council meeting on Thursday. “You have tried to kill me three times. I have seen my would-be assassin with my own eyes in front of my garden, in my home in Brooklyn,” she said. In October, two men were sentenced to 25 years in prison for participating in a murder-for-hire plot to kill Alinejad on behalf of the Iranian government, according to the US justice department. Read the latest on the Iran protests @sbsnews_au (link in bio)