اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز و ہیومین ریسورس ڈویلپمنٹ چوہدری سالک حسین نے وزارت کے ذیلی ادارے ڈائریکٹوریٹ آف ورکرز ایجوکیشن (DWE) کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہیں بیرونِ ملک روزگار کے خواہشمند پاکستانی شہریوں کے لیے متعارف کرائے جانے والے جدید ون ونڈو ڈیجیٹل ٹریننگ سسٹم پر جامع بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ ڈیجیٹل نظام ملک بھر کے تربیتی مراکز کے ذریعے مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا، جس کا مقصد اوورسیز ملازمت کے خواہشمند افراد کو معیاری، یکساں اور جدید تقاضوں کے مطابق تربیت فراہم کرنا ہے۔ حکام کے مطابق اس نظام میں ڈیجیٹل ٹریننگ ماڈیولز، پیشہ ورانہ مہارتوں کے ساتھ ساتھ سافٹ اسکلز جیسے مؤثر ابلاغ، رویّاتی تربیت اور کمیونیکیشن مہارتوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے تربیتی عمل کو شفاف، مؤثر اور عام شہری کے لیے آسان بنایا جائے گا۔ وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے نظام کے جائزے کے بعد ہدایت جاری کی کہ یہ ٹریننگ سسٹم کم لاگت میں زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرے تاکہ عوامی سطح پر اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے، اور اسے یکم مارچ 2026 تک مکمل طور پر فعال کر دیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیرونِ ملک روزگار کے مواقع میں اضافہ اور انسانی وسائل کی بہتر تربیت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور اس ڈیجیٹل نظام سے نوجوانوں اور ہنرمند افراد کو عالمی معیار کے مطابق تیار کیا جا سکے گا۔ دورے کے موقع پر ڈائریکٹر جنرل DWE محمد اکبر رائے، سیکریٹری وزارت اوورسیز پاکستانیز ندیم اسلم چوہدری اور دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے، جنہوں نے وزیر کو ادارے کے جاری منصوبوں اور مستقبل کے لائحہ عمل سے بھی آگاہ کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف بیرونِ ملک ملازمت کے خواہشمند پاکستانیوں کو بہتر تربیت میسر آئے گی بلکہ روزگار کے عمل میں بھی جدت اور سہولت پیدا ہو گی، جو ملکی معیشت اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو گا۔