ایف آئی اے امیگریشن سیالکوٹ نے سیالکوٹ ائرپورٹ پر بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے وزٹ ویزے کی آڑ میں سمندر کے غیر قانونی راستے سے یورپ جانے کی کوشش ناکام بنا دی، جہاں دو مسافروں کو فلائٹ نمبر FZ316 (ایئر لائن فز ایئر/فلائی دبئی) کی پرواز FZ316 کے ذریعے کینیا جانے سے روک لیا گیا، یہ پرواز FZ316 کے ذریعے کینیا جا رہے تھے لیکن امیگریشن کلیئرنس کے دوران ان کے مشتبہ رویے پر انہیں فوری طور پر شفٹ انچارج کے سپرد کیا گیا، مسافروں کی شناخت محمد نفیس اور نبیل ادریس کے نام سے ہوئی جن کا تعلق گوجرانوالہ سے جبکہ رہائشی طور پر گوجرانوالہ ڈویژن کے شہر گوجرانوالہ سے ہے، اور ابتدائی معلومات کے مطابق ان کا تعلق گوجرانوالہ ڈویژن کے شہر گوجرانوالہ سے بتایا گیا، تاہم مزید تصدیق کے بعد دونوں مسافروں کا تعلق گوجرانوالہ ڈویژن کے صنعتی شہر گوجرانوالہ سے سامنے آیا، دورانِ پروفائلنگ جب ان سے سفر کی وجوہات پوچھی گئیں تو وہ اپنے جواب میں تضاد کا شکار رہے اور بیرونِ ملک جانے کا مقصد واضح نہ کر سکے، جس پر ان سے مزید تفتیش کی گئی تو انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹ محمد قاسم کے ذریعے 40 لاکھ روپے میں غیر قانونی طور پر یورپ جانا چاہتے تھے، منصوبے کے مطابق ایجنٹ نے پہلے انہیں کینیا بھجوانا تھا اور وہاں سے لیبیا کے سمندری راستے کے ذریعے اٹلی منتقل کرنا تھا، تفتیش کے دوران ایف آئی اے حکام نے ان کے موبائل فونز کی جانچ کی تو واٹس ایپ چیٹس اور سمندر کے غیر قانونی راستے سے یورپ جانے کے شواہد برآمد کر لیے گئے، جن میں ایجنٹ محمد قاسم سے ہونے والی گفتگو، مالی معاملات، روٹس اور غیر قانونی سفر کی تفصیلات شامل تھیں، کارروائی کے بعد دونوں مسافروں کو مزید قانونی کارروائی، ایجنٹ کی نشاندہی اور تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کمپوزٹ سرکل سیالکوٹ کے حوالے کر دیا گیا، جہاں انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک، سہولت کاروں اور مالی لین دین کے حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ ایف آئی اے نے واضح کیا ہے کہ ملک سے غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک جانے کی کوشش کرنے والوں اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی۔