جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے اٹک میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک ایک عظیم ملک ہے، جس کے قیام کے لیے خاندانوں نے بے مثال قربانیاں دیں، قائدِ اعظم بھی اس نظام سے جان چھڑانا چاہتے تھے، ہمارے دینی اور مذہبی طور پر کمزور کیا جا رہا تھا، سامراجی ہندؤں نے لوگوں کو تقسیم کیا تھا، ہجرت کی گئی اور کاروبار چھوڑے گئے، پاکستان کے لیے خاندان کے خاندان قربانیاں دے رہے تھے مگر ہمارا پاکستان اصلی صورت میں نہیں مل سکا، تعلیم ملنی چاہیے مگر سرداروں اور بیوروکریسی نے نظام کو تباہ کیا، یہ انگریز کے ملازموں جیسا نظام ہے جسے بدلنا ہوگا، سوال اٹھایا کہ یہ پاکستان کی فوج ہے یا انگریز کی فوج، نعرہ دیا کہ تم خادم ہو قوم حاکم ہے، سامراجی طاقتوں نے کالونیاں بنا کر حکمران مسلط کیے، اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کار ایسے لوگ ہیں، افراد سے امیدیں باندھنا ٹھیک نہیں، کبھی کوئی نعرہ کبھی کوئی نعرہ کے کلچر پر تنقید کی، کہا کہ جب نظرِ کرم ہٹے تو مردہ باد اور جب ہو تو زندہ آباد کے نعروں سے قوم نہیں بدلتی، حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے، دستور کی پابندی ضروری ہے، سرٹیفیکیٹ بانٹنے کا کلچر ختم ہونا چاہیے، ہندوستان کے حملے پر پوری قوم کے اتحاد کو سراہا، فارم 47 کی حکومت پر سوال اٹھایا کہ اس سے کیا تبدیلی آئے گی، عدالتی نظام میں 23 لاکھ مقدمات پینڈنگ ہیں، قبضہ کیسز میں 40 سال تک انصاف نہیں ملتا، عدالتی نظام اور انصاف گھر کی دہلیز پر فراہم ہونا چاہیے، نظام کی تبدیلی ضروری ہے چہرے بدلنے کی نہیں، 83 فیصد مزدور کی شناخت ہی موجود نہیں، ہر طبقہ جو خدمت کرتا ہے اسے تسلیم نہیں کیا جاتا، مزدور اور کسان کیسے اپنے بچوں کو پڑھائیں گے اور صحت کی سہولتیں کیسے حاصل کریں گے، مقابلہ جاتی امتحانات میں صرف چند فیصد لوگ پاس ہوتے ہیں مگر روزگار نہیں ملتا۔ بھارت کے پانیوں اور کشمیر کے مسئلے کے بغیر بات آگے نہیں بڑھ سکتی، ہماری شمال مغربی سرحد مضبوط ہونی چاہیے، افغانستان کے ساتھ بات چیت ہونی چاہیے، دو برادر اسلامی ممالک لڑیں تو دشمن کو فائدہ ہوگا، مسلمان مسلمان کا خون نہیں بہا سکتا، دونوں ملکوں کے مسائل مل بیٹھ کر حل کرنا ہوں گے، ہم افغانستان کے مسئلے پر آپ کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار ہیں، فلسطین میں بچے بھوک سے مر رہے ہیں، تمام مسلم ممالک کو نیتن یاہو کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی اور اسے پکڑ کر لانا ہوگا، وینزویلا میں بھی دہشت گردی کی گئی، ہم پاک فوج کے غزہ ڈیسٹیبلائزیشن فورس میں شمولیت پر شدید مزاحمت کریں گے ۔تمام مالی وسائل اور ترقیاتی کام بلدیاتی اداروں کے ذریعے ہونے چاہئیں مگر ہم بلدیات کا مجوزہ نظام قبول نہیں کرتے، نچلی سطح کا بلدیاتی نظام عوام کا حق اور عوامی حاکمیت کا مسئلہ ہے، منتخب لوگ بیوروکریسی کے نیچے کیسے کام کریں گے، ووٹ کو عزت ووٹ بڑھا کر دینی ہوگی، 15 جنوری سے ریفرنڈم ہوگا، بلدیاتی نظام کو کالا قانون قرار دیا، چند لوگوں کو بجلی کی مد میں نوازا جاتا ہے، خواتین بھی ریفرنڈم کے لیے تیاری کریں، رمضان المبارک کے بعد دوبارہ آئی بی ہیز کے خلاف ملک گیر تحریک نکلے گی، اس جنریشن زی پر شفقت سے ہاتھ رکھنا ہوگا

By Syed Inam Ali Kazmi

میرا نام سید انعام علی کاظمی صحافتی میدان میں 2003 سے منسلک ہوں میں نے مختلف اخبارات کے ساتھ کام کیا اور گزشتہ 17-18 سال سے پاکستان کے ایک بڑے سرکاری ٹی وی چینل سے منسلک ہوں میرےتجربے میں مختلف موضوعات پر نیوز رپورٹنگ، بے شمار رپورٹس کی تیاری، اور پاکستان کی معروف سیاسی شخصیات کے انٹرویوز شامل ہیں۔ میرا تعلق ایک پڑھے لکھے خاندان سے ہے میرے والد پاکستان آرمی کے ریٹائرڈ میجر ہیں، اور والدہ بھی بہت زیادہ تعلیم یافتہ تھیں۔ علاوہ ازیں، میں روزانہ کی بنیاد پر مختلف موضوعات پر عوامی رائے اور معاشرتی مسائل پر ولاگ بناتا ہوں اور اپنا یوٹیوب چینل "انعام کاظمی ولاگ" اور ایک ٹک ٹاک اکاونٹ بھی ہے جہاں میں دلچسپ مواد شیئر کرتا ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *