تحریر :-حافظ شہزاد اختر

ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اٹک کے انتخابات برائے مدت 2026–27 کا انعقاد 10 جنوری کو ہونے جا رہا ہے۔ انتخابی عمل میں 570 ووٹرز حصہ لیں گے، جن میں 132 خواتین وکلاء شامل ہیں، جو اس بار نتائج پر واضح اور فیصلہ کن اثر ڈالنے کی پوزیشن میں نظر آتی ہیں۔ صدارت کے عہدے کے لیے تین امیدوار مدمقابل ہیں اور انتخابی فضا غیر معمولی حد تک سنجیدہ، پیچیدہ اور کانٹے دار ہو چکی ہے۔

ثاقب شاہزیب ایڈووکیٹ: پیشہ ورانہ ساکھ بمقابلہ پینل سیاست

شاہزیبی لا چیمبر سے تعلق رکھنے والے ثاقب شاہزیب ایڈووکیٹ (ہائی کورٹ) پیشہ ورانہ اعتبار سے ایک انتہائی کامیاب، مقبول اور متحرک وکیل کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہیں اپنے بڑے بھائی خالد شاہزیب ایڈووکیٹ (سابق صدر ڈسٹرکٹ بار اٹک) کی بھرپور اور منظم حمایت حاصل ہے، جو بار سیاست میں ایک مضبوط حوالہ سمجھی جاتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ سابق صدر ڈسٹرکٹ بار اٹک اور پنجاب بار کونسل کے حالیہ انتخابات میں رنر اپ محترمہ رضوانہ راجہ ایڈووکیٹ، سابق صدر ملک فخرزاد ایڈووکیٹ، سابق امیدوار صدارت ملک نوید اکبر ایڈووکیٹ، سابق جنرل سیکرٹری ملک عثمان ایڈووکیٹ سمیت متعدد سینئر وکلاء کی اعلانیہ و غیر اعلانیہ حمایت بھی ان کے پلڑے میں دکھائی دیتی ہے۔

ثاقب شاہزیب ایڈووکیٹ کو محمد علی لا کالج اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف لیگل اسٹڈیز میں بطور لیکچرار خدمات انجام دینے کا اضافی فائدہ بھی حاصل ہے، جہاں سے نوجوان وکلاء کی ایک بڑی تعداد ان کے شاگردوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان وکلاء نہ صرف خود متحرک ہیں بلکہ اپنے حلقوں میں بھی ان کے لیے ووٹ حاصل کرنے کی عملی کوششوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔
مجموعی طور پر ثاقب شاہزیب ایک مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آتے ہیں، تاہم باقاعدہ پینل کے بغیرانتخاب لڑنا، بار سیاست کے تناظر میں ان کے لیے ایک ممکنہ کمزوری بن سکتا ہے جسکاادارک ا نہیں بخوبی ہے اور غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ وہ جنرل سیکرٹری کی امیدوار عارف خٹک کے ساتھ پینل کی تشکیل کے لیے متحرک ہیں ۔

ربنواز حیات ملک ایڈووکیٹ: کم پروفائل، مگر مضبوط سیاسی صف بندی

صدارت کے دوسرے امیدوار ربنواز حیات ملک ایڈووکیٹ اگرچہ انفرادی طور پر زیادہ متحرک یا نمایاں نظر نہیں آتے، مگر ان کی اصل طاقت ایک منظم، متحرک اور سیاسی طور پر مربوط پینل ہے، جو اس انتخاب میں فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
ان کے پینل میں:
• نائب صدر: ملک شعیب اقبال ایڈووکیٹ آف سروالہ
• جنرل سیکرٹری: ملک فہیم اعجاز ایڈووکیٹ
• جوائنٹ سیکرٹری: سید سرمد شفیق شاہ (موجودہ سیکرٹری فنانس)

خصوصاً سید سرمد شفیق شاہ نوجوان، خوش شہرت اور متحرک وکیل سمجھے جاتے ہیں، جن کے خاندان کے متعدد سینئر اور نوجوان وکلاء ڈسٹرکٹ بار کے فعال ممبران ہیں۔ وہ نہ صرف اپنی نشست بلکہ پورے پینل کے لیے ووٹ اکٹھا کرنے میں عملی کردار ادا کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنے مدِمقابل امیدوار شیخ محمد طیب ایڈووکیٹ کے مقابلے میں مضبوط پوزیشن میں دکھائی دیتے ہیں۔

یہ پینل سردار توصیف (نو منتخب ممبر پنجاب بار کونسل)، ملک اسرار شہید گروپ اور موجودہ بار قیادت یعنی عبداللہ ایس اعوان (صدر ڈسٹرکٹ بار اٹک) اور عمر سلیم ایڈووکیٹ (جنرل سیکرٹری) کی مکمل سرپرستی کا حامل ہے۔ انہی شخصیات کی سیاسی بصیرت اور متحرک حکمتِ عملی نے پنجاب بار کونسل کے حالیہ انتخابات میں کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

ان تمام عوامل نے ربنواز حیات ملک ایڈووکیٹ کو صدارت کی دوڑ میں ایک نہایت سنجیدہ اور وزن دار امیدوار بنا دیا ہے۔ مزید برآں سینئر قانون دان سید عظمت علی بخاری (سابق ممبر پنجاب بار کونسل و سابق امیدوار قومی اسمبلی) سمیت متعدد سینئر وکلاء اور چیمبرز کی حمایت بھی ان کے ساتھ دکھائی دیتی ہے۔

آصف محمود بھٹی ایڈووکیٹ: ووٹ تقسیم کرنے والا اہم عنصر

صدارت کے تیسرے امیدوار آصف محمود بھٹی ایڈووکیٹ بھی سولو فلائٹ پر ہیں۔ وہ دراصل موجودہ باڈی کی جانب سے صدارتی امیدوار بننے کے خواہاں تھے، مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر انہیں پینل کا حصہ نہ بنایا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے آزاد حیثیت میں انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا، جس کا بظاہر سیاسی نقصان ربنواز حیات ملک ایڈووکیٹ کو پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ ووٹ تقسیم ہونے کا خدشہ بدستور موجود ہے۔
آصف محمود بھٹی کو سید فیصل بخاری ایڈووکیٹ (پنجاب بار کے حالیہ انتخابات میں تیسری پوزیشن) اور سابق امیدوار صدارت بابر رضوان ایڈووکیٹ جبکہ سابق عہدیدار شفقت الرحمن آف موسیٰ کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ عامر حسنین ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کے چیمبر کی حمایت آصف محمود بھٹی کو حاصل نہیں، بلکہ یہی چیمبر سردار توصیف پینل کے امیدوار برائے جنرل سیکرٹری ملک فہیم اعجاز ایڈووکیٹ کی مکمل حمایت کر رہا ہے، جس سے جنرل سیکرٹری کے مقابلے میں عارف خٹک ایڈووکیٹ کے امکانات خاصے کمزور پڑتے دکھائی دیتے ہیں۔

فیصلہ کن کردار کس کے پاس؟

عامر حسنین چیمبر اس انتخاب میں ایک گیم چینجرکے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر یہ چیمبر کسی ایک صدارتی امیدوار کی کھل کر حمایت کا اعلان کر دیتا ہے تو اس کی کامیابی کے امکانات نمایاں ہو سکتے ہیں۔ تاحال اس حوالے سے ابہام برقرار ہے۔
نائب صدارت کے آزاد امیدوار احمد رضا ایڈووکیٹ، جو سینئر قانون دان حاجی بختیار ایڈووکیٹ (سابق امیدوار پنجاب بار و ایم پی اے) کے بھائی ہیں، اثر و رسوخ ضرور رکھتے ہیں، تاہم ان کی پوزیشن بھی سردار توصیف پینل کے امیدوار کے مقابلے میں مستحکم نظر نہیں آتی۔ البتہ حاجی بختیار ایڈووکیٹ کا سال 2026 کے لیے بلا مقابلہ 10منتخب ہونے والے ایگزیکٹو ممبران میں سینئر ترین ہونا ایک اہم سیاسی حقیقت ہے۔حیران کن طور پر موجودہ جنرل سیکرٹری عمر سلیم ایڈوکیٹ بھی بلا مقابلہ منتخب ایگزیکٹو ممبران کی لسٹ میں شامل ہیں ۔
ڈسٹرکٹ بار اٹک کا یہ انتخاب محض ایک عہدے کی جنگ نہیں بلکہ پیشہ ورانہ ساکھ، پینل سیاست، گروہی اتحاد اور نوجوان وکلاء کی شمولیت کا عملی امتحان بن چکا ہے۔ ثاقب شاہزیب ایڈووکیٹ اور ربنواز حیات ملک ایڈووکیٹ کے درمیان مقابلہ انتہائی کانٹے دار دکھائی دیتا ہے، جبکہ آصف محمود بھٹی ایڈووکیٹ کی موجودگی نتائج کو آخری لمحے تک غیر یقینی رکھ سکتی ہے۔
قرینِ قیاس یہی ہے کہ ہار جیت کا فیصلہ چند ووٹوں سے ہوگا جو ڑتوڑ ڑتو ڑ جاری ہے ڈسٹرکٹ بار اٹک ایک بار پھر سیاسی بصیرت اور تنظیمی طاقت کی نئی مثال قائم کرے گی۔یہ بات بھی عیاں ہے کہ بار سیاست کس طرح عدالتی نظام کی سستی کی وجہ بن چکی جس پر آئندہ بات ہوگی۔

ثاقب شاہزیب ایڈووکیٹ اور ربنواز حیات ملک ایڈووکیٹ کے درمیان مقابلہ انتہائی کانٹے دار دکھائی دیتا ہے، جبکہ آصف محمود بھٹی ایڈووکیٹ کی موجودگی نتائج کو آخری لمحے تک غیر یقینی رکھ سکتی ہے۔
قرینِ قیاس یہی ہے کہ ہار جیت کا فیصلہ چند ووٹوں سے ہوگا جوڑ توڑ کا عمل بھی جاری ہے 10 جنوری کو ڈسٹرکٹ بار اٹک ایک بار پھر سیاسی بصیرت اور تنظیمی طاقت کی نئی مثال قائم کرے گی

By Syed Inam Ali Kazmi

میرا نام سید انعام علی کاظمی صحافتی میدان میں 2003 سے منسلک ہوں میں نے مختلف اخبارات کے ساتھ کام کیا اور گزشتہ 17-18 سال سے پاکستان کے ایک بڑے سرکاری ٹی وی چینل سے منسلک ہوں میرےتجربے میں مختلف موضوعات پر نیوز رپورٹنگ، بے شمار رپورٹس کی تیاری، اور پاکستان کی معروف سیاسی شخصیات کے انٹرویوز شامل ہیں۔ میرا تعلق ایک پڑھے لکھے خاندان سے ہے میرے والد پاکستان آرمی کے ریٹائرڈ میجر ہیں، اور والدہ بھی بہت زیادہ تعلیم یافتہ تھیں۔ علاوہ ازیں، میں روزانہ کی بنیاد پر مختلف موضوعات پر عوامی رائے اور معاشرتی مسائل پر ولاگ بناتا ہوں اور اپنا یوٹیوب چینل "انعام کاظمی ولاگ" اور ایک ٹک ٹاک اکاونٹ بھی ہے جہاں میں دلچسپ مواد شیئر کرتا ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *